پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ڈی اے پی کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)ڈائمونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی)کھاد کی قیمتیں15000 روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ پورے ملک میں بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈی اے پی کی ریٹیل قیمتوں میںایک ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں ایک ہزار روپے سے2 ہزار روپے کے پریمیم پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ دستیابی کی کمی ہے۔ ملک بھر کے رجسٹرڈ ڈیلرز سے قیمتیں اکٹھی کی گئی ہیں لیکن کسانوں کیلئے ان کی دستیابی اکثر نہیں ہوتی ہیاگر کہیں ملتی ہے تو بلیک ریٹ پر ملتی ہے۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں ڈی اے پی کا ریٹ ہیاوکاڑہ، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان میں ڈی اے پی کی قیمتیں 14600 سے 14700روپے کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ مظفر گڑھ، راجن پور، لیہ میں، یہاں تک کہ رجسٹرڈ ڈیلر ضروری کھاد کی قیمت 14800 سے 15000روپے مقرر کر رہے ہیں۔بوائی کا وقت کسی بھی فصل کی پیداوار کا فیصلہ کرنے والے سب سے اہم عوامل میں سے ایک ہے اور یہ زیادہ اہم ہو گیا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کسانوں کو متعدد پیداواری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کسان کا کہنا ہے کہ گندم کی بوائی پہلے ہی عروج پر ہے اور ہمیں یقین ہے کہ قیمتیں اب کسی بھی وقت گرنا شروع ہو جائیں گی کیونکہ ڈی اے پی کی زیادہ تر ضرورت گندم بوائی کے وقت کی جاتی ہیانہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر چھوٹے کسانوں کے پاس نقد رقم کا بہاو کم ہوتا ہے لہذا وہ بوائی کے موسم سے پہلے یہ مصنوعات نہیں خرید سکتے جب ذخیرہ اندوز اور بلیک مارکیٹرز ان کا استحصال کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ گندم کی کاشت میں کسی بھی تاخیر سے اوسط پیداوار پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اگر مارچ سیاپریل کے دوران درجہ حرارت غیر متوقع سطح تک بڑھ جاتا ہے جیسا کہ 22-2021 میں ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…