جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

زر مبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 15 پیسے جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں 25 پیسے سستا

datetime 5  دسمبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) زر مبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی آگئی، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 15 پیسے جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں 25 پیسے سستا ہوگیا۔آئی ایم ایف کے 15 روزہ معیشت کے ریویو دورانیے میں روپے کی قدر میں 7.20 روپے کی کمی کے بعد 16 نومبر سے ڈالر مرحلہ وار بنیادوں پر تنزلی سے دوچار ہوگیا ہے۔ غیرضروری طور پر طلب میں کمی اور رسد بہتر ہونے کے باعث منگل کو بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر ریورس گئیر میں رہا۔

کاروباری دورانیے کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک موقع پر 39 پیسے کی کمی سے 284 روپے 13 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن رسد بہتر ہونے کے باعث غیرملکی کمپنیوں کی زرمبادلہ میں منافع اپنے ہیڈ کوارٹرز بھیجنے کے دباو باعث کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 15 پیسے کی کمی سے 284 روپے 37 پیسے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 25 پیسے کی کمی سے 285 روپے 25 پیسے پر بند ہوئی۔متحدہ عرب امارات اور کویت کے بعد سعودی عرب سے بھی پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کی توقعات، کرنسی اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی آپریٹرز کی سرگرمیاں منجمد ہونے سے سمندر مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی قانونی چینلز سے آمد بڑھنے سے مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی بتدریج بہتر ہوتی جارہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر کے وسط میں آئی ایم ایف ریویو ختم ہونے سے غیریقینی کیفیت ختم ہوگئی ہے جس سے روپیہ پر دباو بھی گھٹ گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 16 نومبر سے اب تک روپے کی نسبت ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر 3.77 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، برآمدی سرگرمیوں میں اضافے اور انتظامی اقدامات کی بدولت ڈالر کے سٹے باز روپوش ہوگئے ہیں اور ڈیمانڈ حقیقی ضروریات تک محدود ہونے سے ڈالر بیک فٹ آگیا ہے۔آئی ایم ایف سے دسمبر یا جنوری میں قرضے کی قسط کی منظوری اور آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر مزید گھٹنے کے خدشات پر ایکسپورٹرز نے ڈالر کی صورت میں موصول ہونے والی اپنی برآمدی آمدنی بھنانا شروع کردی ہے جس سے ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی سپلائی یومیہ بنیادوں پر بہتر ہوتی جارہی ہے اور ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا ہورہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…