منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

شیل پٹرولیم کمپنی کا پاکستان میں اپنے شئیرز فروخت کرنے کا فیصلہ

datetime 14  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد: شیل پٹرولیم کمپنی نے پاکستان میں اقتصادی بحران کے دوران اپنے شئیر فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اس اعلان سے پاکستان میں شیل پاکستان لمیٹڈ کی جاری کاروباری سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ شیل پٹرولیم کمپنی کو 2022 میں ڈالر کی قدر میں اضافے اور پاکستانی روپے کی
قدر میں کمی کے باعث بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

علاوہ ازیں برطانوی کپمنی کو واجبات کی وصولی میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث کمپنی نے یہ فیصلہ کیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شیل کمپنی
نے کہا ہے کہ وہ شیل پاکستان کے 77 فیصد حصص فروخت کر دے گی اور کمپنی کا انتظام و انصرام خریدار کے حوالے کر دے گی۔شیل کے ترجمان کے مطابق حصص کی فروخت میں گروپ کے دیگر کاروبار بھی شامل ہیں جن میں پاک عرب پائل لائن کمپنی لمیٹڈ (پارکو) کے 26 فیصد مالکانہ حقوق بھی شامل ہیں۔

شیل پٹرولیم کمپنی کی جانب سے پاکستان ایکسچینج اور سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا کہ شیل ادارہ پاکستان میں اپنے حصص فروخت کر رہا ہے جس کی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں دی جا چکی ہے۔اس فروخت سے پاکستان میں جاری شیل کے آپریشنز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ جاری رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…