اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کے باعث حکومت کو بجٹ کی تیاری میں مشکلات کا انکشاف

datetime 29  اپریل‬‮  2023 |

آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کے باعث حکومت کو بجٹ کی تیاری میں مشکلات کا انکشاف

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے درمیان سٹاف سطح کے معاہدے میں تاخیر کے باعث آئندہ مالی سال 2023-24کے وفاقی بجٹ کی تیاری میں شدید مشکلات کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی ٹی وی نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کیلئے خسارہ پورا کرنے کیلئے فنانسنگ کے ساتھ ساتھ ڈالر اور روپے کی شرح کے تناسب کے تعین نہ ہونے کے باعث بجٹ تخمینہ جات طے کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے ان عوامل کے علاوہ مردم شماری کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے بھی تخمینہ جات طے کرنے میں دشواری درپیش ہے۔ذرائع کے مطابق مردم شماری میں مزید پندرہ دن کی توسیع کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عوامل کی وجہ سے ابھی تک بجٹ کی حکمت عملی کو دستاویزی سطح پر بھی تیار نہیں کیا جاسکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر اسٹریٹجی پیپر اپریل کے دوسرے ہفتے میں کابینہ سے منظوری لی جانی تھی وہ ابھی تک تیار ہی نہیں ہوسکا ہے اور ممکنہ طور پر بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں تیار ہوگا۔ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض پروگرام کا ٹریک پر نہ آنا بھی بجٹ کی تیاریوں میں بھی رکاوٹ بن گیا ہے جبکہ حکومت کی طرف سے اگلے مالی سال 2023-24ء کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے کابینہ اور پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا پلان ہے لیکن ملک میں سیاسی و معاشی بے یقینی کے باعث اس حوالے سے اسٹریٹجی پیپر ہی تاحال تیار نہ ہوسکا۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر سے ترقیاتی اور جاری اخراجات کیلئے بجٹ کی حد مقرر کرنے کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس بھی تاحال طلب نہیں کیا جا سکا

بجٹ سے متعلق نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس مئی کے پہلے ہفتے میں ہوگا۔ذرائع کے مطابق ابتدائی شیڈول کے مطابق بجٹ اسٹریٹجی پیپر کی اپریل کے دوسرے ہفتے میں کابینہ سے منظوری لینا تھی حکام کے مطابق بجٹ دستاویز کو مئی کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے گی اور ٹیکس ریونیو، مالی خسارے، ترقیاتی بجٹ سمیت اہم بجٹ اہداف آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد طے ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…