پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی قدر بڑھانے ، کم کرنے کے کردار سامنے لائے جائیں

datetime 2  اکتوبر‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی)کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن و لاہور چیمبر کے سابق صدر پرویز حنیف نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ دعویٰ کہ روپے کی بے قدری مصنوعی تھی انتہائی تشویش کا باعث ہے ، حکومت کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیے

اور اس کے جو بھی کردار ہیں انہیں سامنا لانا چاہیے ،ڈالر کی قدر میں اتار چڑھائو سے برآمدی شعبہ مشکلات کا شکار ہے اس لئے موثر پالیسی نا گزیر ہے ، روپیہ مصنوعی کی بجائے اپنے بل بوتے پر اپنی قدر بڑھائے تو معیشت کیلئے سود مند ہوگا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بتانا چاہیے وہ کون سے با اثر کردار ہیں جو ڈالر کی قدر کو بڑھانے اور کم کرنے میں اپنی مرضی کرتے ہیں جس سے ہماری معیشت کی چولیں تک ہل جاتی ہیں ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں یہ کہا ہے کہ روپیہ جس سطح پر ہے یہ اس کی اصل قیمت نہیں ، روپے کی بے قدری مصنوعی تھی ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت اس کی وضاحت کرے اور بتایا جائے اس کے کردار وں کے خلاف ابھی تک کیا ایکشن لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال ہے جس کی وجہ سے برآمدی شعبہ ہچکچاہٹ کا شکار ہے ۔ حکومت برآمدات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پالیسی بنائے تاکہ ہماری برآمدات بڑھ سکیں جس سے ہماری معیشت کو فائدہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…