جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

لاک ڈائون تباہ کن ثابت 50فیصد سے زائد مال فروخت ہی نہ ہوسکا تقریباً 40 فیصد خریدار عید شاپنگ سے محروم رہے

datetime 12  مئی‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) تاجروں کا 2021عید سیل سیزن این سی او سی کے ناقص اور تجارت کُش فیصلوں کی نذر ہوگیا، کاروبار کی 6بجے بندش اور 8مئی سے لگایا جانے والا لاک ڈائون تجارت کیلئے تباہ کُن ثابت ہوا، اسٹاک سے بھری دکانیں و گودام تاجروں کو کوئی فائدہ نہ دے سکے، 50فیصد سے زائد مال فروخت نہ ہوسکا، تقریباً 40 فیصد خریدار

عید شاپنگ سے محروم رہے، تجارت کا چمن موسم بہار میں اجڑگیا، رواں سال تجارت کے بہتر مواقع میسر آنے کے باوجود 2021 کاروباری اعتبار سے مایوس کُن رہا، جھلستی گرمی میں بھی وفاقی و صوبائی حکومت سندھ نے افطار کے بعد بازار کھولنے کی اجازت نہیں دی، عید سیل کا تخمینہ تقریباً 30ارب روپے رہا، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے موجودہ صورتحال کو ملکی معیشت اور تجارت کیلئے تباہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی نگل رہا ہے، سال کے سب سے بڑے سیل سیزن میں بھی حکومت نے تجارت کا گلا گھونٹ دیا، انھوں نے کہا کہ خرید و فروخت کے مناسب مواقع میّسر نہ آنے کے سبب خریداروں کے ارمانوں اور دکانداروں کی امیدوں پر پانی پھرگیا، 80فیصد خریداری خواتین اور بچوں کے کم قیمت ریڈی میڈ گارمنٹس ، جوتے، پرس، کھلونے، ہوزری، آرٹیفیشل جیولری، زیبائش کا سامان وغیرہ کی مد میں کی گئی، رواں سال بہتر

خریداری کی توقع پر تاجروں نے عید سیل سیزن پر بھرپور سرمایہ کی تھی ، دکانوں پرخواتین، بچوں اور مردوں کے ملبوسات کی بہترین ویرائٹی دستیاب تھی لیکن اوقات کار کم ہونے سے عید کے حوالے سے شناخت رکھنے والی اہم مارکٹوں میں حسبِ توقع خریداری نہ ہوسکی،

قیمتوں میں اوسطاً 20تا 25فیصد اضافے سے بیشتر خریداروں کی قوت خرید متاثر ہوئی اور انھوں نے صرف ایک سوٹ پر اکتفا کیا، مارکٹوں میں درآمدی اشیاء کے اسٹاک کم ہونے سے مقامی مصنوعات کی فروخت میں تیزی رہی۔ 8مئی کے مکمل لاک ڈائون کے بعد بیشتر دکانوں

کے باہر خریدار سامان کیلئے دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہوئے نظر آئے جہاں منشیات کی طرز پر چوری چھپے مال بیچا جارہا ہے، رمضان المبارک میں گرانفروشوں کو کھلی چھوٹ مل گئی، موقع پرستوں نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچاکر غریب اور متوسط طبقے

کی کمر توڑ دی ، تجارتی مراکز میں چہل پہل کا سب سے زیادہ فائدہ مجسٹریٹس اور پولیس کو ہوا جنھوں نے درجنوں بازار اور دکانیں SOP’sکی خلاف ورزی پر سیل کرکے کروڑوں روپے جرمانے اور رشوت وصول کی، ٹریفک پولیس نے بازاروں کے اطراف پارکنگ کی عدم دستیابی

کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور یومیہ بنیادوں پر کروڑوں روپے کا دھندہ کیا، کاغذات کی جانچ پڑتال کے بہانے بھی رشوت ستانیوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا، جیب کتروں کی بھی چاندی ہوگئی، انھوں نے کہا کہ رواں سال خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کرونا وباء کی

قدرے کم تباہ کاریوں کے سبب پاکستان میں تجارت کے بہتر مواقع موجود تھے لیکن اسکے باوجود CNOCکے غیرمعیاری اور تجارت کُش فیصلوں نے ملکی معیشت کو پھلنے پھولنے سے روک دیا،انھوں نے کہا کہ خاطر خواہ مال فروخت نہ ہونے کے نتیجے میں دکانداران کو عید بعد کاریگروں اور کارخانے داروں کو رقوم کی ادائیگی کے لالے پڑگئے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…