جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں کام کرنیوالی غیرملکی کمپنیوں کو 9 ماہ کے دوران اربوں روپے کا منافع سٹیٹ بینک نے اعدادو شمار جاری کر دیے

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(اے پی پی)جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران غیرملکی کمپنیوں نے 1.13 ارب ڈالر کے منافع جات بیرون ملک منتقل کیے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ 21۔ 2020 پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کی جانب

سے 1.13 ارب ڈالر منافع جات کی مد میں اپنے اپنے ممالک کو بھجوائے ہیں۔جولائی تا مارچ 20 ۔ 2019 غیرمقامی کمپنیوں کی جانب سے ایک ارب ڈالر کے منافع جات دوسرے ممالک کو بھجوائے تھے۔ ایس بی پی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران فوڈ سیکٹر میں کام کرنے والی غیرمقامی کمپنیوں کی طرف سے سب سے زیادہ 221 ملین ڈالر منافع جات کی مد میں بیرون ملک منتقل کئے ہیں۔اسی طرح مالیات کے شعبہ کی جانب سے اس عرصہ کے دوران 165.8 ملین ڈالر دیار غیر بھجوائے گئے ہیں۔ مزید برآں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ کی جانب سے منافع جات کی منتقلی کا حجم 104 ملین ڈالر جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے 106.5 ملین ڈالر اور آئل اینڈ گیس کے شعبہ میں کام کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کی طرف سے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی کا حجم 95 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید برآں تمباکو اور سگریٹس کے شعبہ کی جانب سے 85 ملین ڈالر مالیت کے منافع جات دوسرے ممالک کو منتقل کیے گئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…