منگل‬‮ ، 06 جنوری‬‮ 2026 

400 روپے کلو بکنے والے ٹماٹر کاشتکار مفت بانٹنے لگے

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

پنگریو(این این آئی)پنگریو اورزیریں سندھ کی دیگرمنڈیوں میں تاجروں نے کسانوں سے ٹماٹروں کی خریداری بند کردی ہے جس کی وجہ سے کسانوں نے چنائی کردہ ٹماٹر مویشیوں کوکھلانا اور ضائع کرنا شروع کردیے ہیں پنگریو۔ٹنڈوباگو۔بدین۔شادی لارج سمیت ضلع بدین اورزیریں سندھ کے دیگرشہروں کی ٹماٹرمنڈیوں میں ٹماٹروں کے

ڈھیر لگ گئے ہیں اور ملکی ضرورت کے مقابلے میں بہت زیادہ مقدار میں ٹماٹرمنڈیوں میں آنے کے باعث تاجروں نے کسانوں سے ٹماٹروں کی خریداری بند کردی ہے جس کی وجہ سے کسان اپنے ٹماٹر منڈیوں سے واپس لانے پرمجبور ہوگئے اورانہوں نے اپنے ٹماٹرمویشیوں کو بطور چارہ کھلانا شروع کردیے ہیں جبکہ متعددکسانوں نے ٹماٹروں کے کھیتوں میں ہل چلادیے ہیں کسانوں کے مطابق گزشتہ چند روز میں ٹماٹروں کی قیمتوں میں زبردست کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو معاشی نقصان ہورہاتھامگر اب تو تاجروں نے ٹماٹروں کی خریداری سرے سے بند کردی ہے اس حوالے سے تاجروں نے بتایا کہ کسانوں نے ٹماٹرکی چنائی تیز کردی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ مقدار میں ٹماٹرمنڈیوں میں آرہا ہے ملکی ضرورت سے زیادہ ٹماٹرآنے کے باعث اس کی خریداری عارضی طورپر بند کی گئی ہے جوکہ ایک دوروزمیں دوبارہ شروع کردی جائے گی اس حوالے سے کاشتکارتنظیم کے سرپرست اعلی فیاض شاہ راشدی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پچھیتی کاشت کی گئی ٹماٹرکی فصل اب پک کر تیار ہوئی ہے جوکہ مارکیٹ میں لائی جارہی ہے ایک طرف توسندھ میں ملکی ضرورت سے زیادہ مقدارمیں ٹماٹرکی پیداوارحاصل ہورہی ہے تو دوسری طرف وفاقی حکومت نے ایران سے ٹماٹروں کی درآمدجاری رکھی

ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب تاجروں نے سندھ کے کسانوں سے ٹماٹرخریدنا ہی بند کردیے ہیں اورکسان بھاری لاگت سے تیارہونے والی اپنی ٹماٹرکی فصل تلف کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طرزعمل سے سندھ کے کسان آئیندہ ٹماٹرکی فصل کاشت کرنے سے گریز کریں گے جس کا ملکی زرعی معیشت

اورعوام پر منفی اثرپڑے گا ۔دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ چار سو روپے کلو فروخت ہونے والا ٹماٹر انتہائی سستا ہو گیاہے اور منڈیوں میں انتہائی وافر مقدار میں موجود ہے یہاں تک کہ کسانوں سے ٹماٹر نہ خریدنے کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے جس پر کئی کسانوں نے ٹماٹر مفت تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…