اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

گردشی قرضہ ،وائرس اور سیاست کے بعد زراعت بھی معیشت کے لئے خطرہ بن گئی ، انتہائی تشویشناک انکشاف

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ، کرونا وائرس، عالمی منڈی میں ڈیمانڈ کی کمی، ایف اے ٹی ایف، مہنگائی اور سیاسی محاذ آرائی کے بعد زراعت بھی ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔

کرنٹ اکائونٹ سرپلس اور روپے کی قدر میں حیران کن اضافے سے بیرونی قرضوں میں زبردست کمی آئی ہے جس سے حکومت کا قرضوں پر انحصار کم ہو گیا ہے اور اب بینکوں کے پاس صرف نجی شعبے کو قرضے دینے اور ہائوس فنانسنگ کا آپشن بچا ہے جو معیشت کے لئے اچھا ہے کیونکہ اس سے سینکڑوں صنعتیں رواں ہو جائیں گی۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کم شرح سود اور سستے قرضوں کی وجہ سے معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے جس کا کریڈٹ مرکزی بینک کو جاتا ہے تاہم زرعی شعبے کی صورتحال مایوس کن ہے جو دیگر شعبوں کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ ایک طرف کپاس جیسی اہم ترین فصل کی پیداوار انتہائی مایوس رہی ہے تو دوسری طرف دیگر اہم اجناس کی ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، قیمتوں پر عدم کنٹرول اورا سمگلنگ بھی بلا روک ٹوک جاری ہے جس کا سارا اثر عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔گندم کاپیداواری ہدف 26.78 ملین ٹن مقرر کر دیا گیا ہے مگر آٹے کے بحران ، امدادی قیمت پر کشمکش ، مرکز اور صوبوں کے مابین الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، غیر معیاری بیج و ادویات، مہنگی کھاد، اورتوانائی کی قیمتوں سے یہ ہدف متاثر ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو تشویشناک ہے۔کپاس کا ہدف15 ملین گانٹھ اورپیداوار 8.44 ملین گانٹھ ہے جبکہ آزاد تخمینوں کے مطابق

اس سال پیداوار صرف 6ملین گانٹھ ہوگی ۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کو14 سے 15 ملین گانٹھ کی ضرورت ہے جسے اربوں ڈالر کی درآمدات سے پورا کیا جائے گا جو تجارتی خسارے کو بڑھا دے گاجس سے سنگین مسائل جنم لینگے۔سال رواں کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے جس کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے ضروری اقدامات ضروری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…