جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

یہ کام کرکے سالانہ تین کھرب روپے بچائے جا سکتے ہیں،انتہائی مفید مشورہ دیدیا گیا

datetime 10  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت چند اہم شعبوں کو معمولی توجہ دے کر سالانہ تین کھرب روپے بچا سکتی ہے جس سے ملک آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل کر ترقی کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔جن معاملات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے

ان میں پاور سیکٹر، ایف بی آر اورناکام سرکاری کمپنیوں میں اصلاحات ، حکومت کے اخراجات میں کمی اور غیر ضروری درآمدات کا خاتمہ شامل ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ان شعبوں کے مجموعی نقصانات کھربوں روپے میں ہیں جس کا بوجھ عوام اٹھاتی ہے۔ان شعبوں کو ملکی و غیر ملکی قرضوں کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور اگر ان میں اصلاحات کی جائیں تو ملک کو قرضوں کی ضرورت نہیں رہے گی، معیشت اور کرنسی مستحکم ہو جائے گی اور مرکزی بینک شرح سود کو کم کرنے کے قابل ہو جائے گا جس سے تجارتی سرگرمیاں، برآمدات، محاصل اور روزگار بڑھے گا۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق حکومت کو ناکام سرکاری اداروں کو مصنوعی طور پر زندہ رکھنے پر 503ارب روپے خرچ کرنا تھے مگر اس مد میں دُگنا خرچہ کیا گیاجسکا ملک اور قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔عوام کا پیٹ کاٹ کر ان اداروں کی نااہل اور کرپٹ انتظامیہ اور کام چور ملازمین کو پالا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔اسی طرح پاور سیکٹر کے کھربوں روپے سالانہ کے نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں جس میں اصلاحات کے بجائے بجلی کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں جو معیشت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے۔محاصل میں اضافے کے لئے اصلاحات کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں مگر اس سے ٹیکس کے نظام میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ تنزل آیا ہے۔حکومت اپنی آمدنی میں اضافے کے لئے سابقہ حکومتوں کی طرح ٹیکس نیٹ کو پھیلانے کے بجائے عوام پر ٹیکس کے بوجھ میں مسلسل اضافہ کر ہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ قیادت بھی معاملات کو بہتر کرنے کے بجائے عوام کو نچوڑنے والے شارٹ کٹ کا راستہ ہی اختیار کرنے کو ترجیح دیتی ہے جو اس مسئلے کا طویل المیعاد حل نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…