بدھ‬‮ ، 01 جولائی‬‮ 2026 

اقربا پروری ، سیاسی تقرریاں،سوئی سدرن گیس کمپنی خسارے میں چلنے والا ادارہ بن گیا

datetime 21  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)اقربا پروری اور سیاسی بنیادوں پر اعلی افسران کی تقرریوں کے نتیجے میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ بھی خسارے میں چلنے والا ادارہ بن گیا ہے اور اس کا حال بھی پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز جیسا ہونے والا ہے۔ایڈہاک انتظامیہ گیس کی چوری اور نقصانات پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے قومی خزانہ کو سالانہ 35 ارب روپے کے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

اس ضمن میںذرائع نے بتایا کہ ایڈہاک انتظامیہ کی وجہ سے نہ صرف اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے اور سندھ کو گیس کی فراہمی میں طویل تعطل کا سامنا ہے بلکہ کمپنی انتظامیہ ملک کو مہنگی ایل این جی کی طرف دھکیل رہی ہے اور باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین سے اربوں روپے حاصل کررہی ہے۔اس وقت ایس ایس جی سی ایل کی یومیہ سپلائی 1200 ملین کیوبک فٹ ہے، اس میں سے چوری کے باعث 200 ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ سسٹم سے غائب ہورہی ہے اور نقصانات 17.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ ایک اعلی افسر کے مطابق ایک فیصد نقصان کا مطلب ہے آمدنی میں 2 ارب روپے کی کمی، 2019-20 میں گیس چوری کی وجہ سے قومی خزانے کو 35 ارب روپے کا نقصان ہوا۔اس نقصان میں سے 6.3 ارب وگرا نے ان ایماندار صارفین سے وصول کیے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔ یعنی گیس چوری کی سزا باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو دی گئی۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ کا کہنا تھا کہ ایس ایس جی سی کی انتظامیہ اتنی زیادہ تنخواہیوں کیوں لے رہی ہے اگر وہ گیس چوری اور لیکیج(یو ایف سی)پر قابو نہیں پاسکتی۔2020-21میں ملک کو یومیہ 67476 ملین مکعب فٹ گیس چوری اور لیکیج کی صورت میں نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایاکہ بلوچستان میں گیس کی طلب مجموعی گیس سپلائی کا 6 فیصد سے زیادہ نہیں مگر ایس ایس جی سی ایل یہ غلط فہمی پیدا کررہی ہے کہ تمام نقصان بلوچستان میں ہورہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کمپنی کے سربراہ کی تقرری کے لیے تین مہینے کی ڈیڈ لائن دی تھی مگر ہنوز منیجنگ ڈائریکٹر کا تقرر عمل میں نہیں لایاجاسکاہے۔2016 سے منیجنگ ڈائریکٹر شپ تین منیجنگ ڈائریکٹرز کے درمیان میوزیکل چیئرز کا کھیل بنی ہوئی ہے۔جن میں موجودہ ایم ڈی امین راجپوت بھی شامل ہیں۔ مستقل ایم ڈی نہ ہونے سے کمپنی میں انتظامی مسائل پائے جاتے ہیں اور گیس چوری اور لیکیج کے نقصانات 18 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…