بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

رقوم منتقلی پر تمام چارجز ختم ،کورونا وائرس کے سبب سٹیٹ بینک نے اہم اعلانات کر دئیے

datetime 19  مارچ‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) کورونا وائرس کی وباء کے دوران بینک دولت پاکستان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ بینک برانچز یا اے ٹی ایمز میں جانے کی ضرورت کم ہو اور ڈیجیٹل پے منٹ سروسز جیسے انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل فون بینکنگ وغیرہ کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔

مرکزی بینک کے مطابق کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے پیش نظر اسٹیٹ بینک وبا اور اس کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے معاشرے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کررہا ہے۔ عوام خصوصاً کاروباری اداروں کو خدمات کی فراہمی میں مالی شعبے کے اہم کردار کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی خدمات اس طرح ہموار طور پر فراہم کریں کہ کورونا وائرس وبا کا خطرہ کم سے کم ہو۔اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ انٹربینک فنڈ ٹرانسفر (آئی بی ایف ٹی) جیسے آن لائن بینکاری ذرائع اور صارفین کے لیے اسٹیٹ بینک کے رئیل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم کے ذریعے رقوم کی منتقلی پر تمام چارجز ختم کردیں۔ اس طرح لوگ کسی لاگت کے بغیر موبائل فونز یا انٹرنیٹ بینکاری کے ذریعے رقوم منتقل کر کے بینک کی برانچ یا اے ٹی ایم جانے کی زحمت سے بچ سکتے ہیں۔ انہیں اے ٹی ایمز کے استعمال یا بھاری رقوم کی منتقلی کے لیے بینکوں کی برانچوں پر جانے کی کوئی لاگت ادا نہیں کرنی پڑے گی اور اس طرح وہ نقد کے استعمال سے بچ سکتے ہیں۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صارفین کے فنڈز کی حفاظت اور سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے وہ اپنے صارفین کو آن لائن بینکاری کے استعمال میں سہولت دیں۔

وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ کال سینٹر/ہیلپ لائنز صارفین کو فوری سہولت کی فراہمی کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب رہیں۔مالی صنعت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کو انٹرنیٹ بینکنگ یا موبائل آلات کے ذریعے تعلیمی فیس اور قرض کی ادائیگیوں کی فوری سہولت فراہم کرے۔ صارفین کو انٹرنیٹ بینکنگ یا موبائل فون کا استعمال سکھانے کے لیے، کرنسی نوٹوں کا استعمال محدود کرنے اور صارفین کی جانب سے برانچ سے دور رہنے سے متعلق مالی ادارے مختلف ذرائع سے آگاہی کی مہمیں بھی چلائیں گے۔

اسٹیٹ بینک نے ڈجیٹل لین دین کے دوران ممکنہ فراڈ کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے مالی صنعت کو ہدایت کی ہے کہ ڈجیٹل چینلز پر کڑی نظر رکھی جائے اور سائبر خطرات کے لحاظ سے نگرانی بڑھا دی جائے۔ اسٹیٹ بینک توقع کرتا ہے کہ ان اقدامات سے بینکوں کے صارفین کی روز مرہ کی مالی خدمات کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ کورونا وائرس نے عالمی سطح پر انسانی زندگیوں کو آزمائش سے دوچار کیا ہے اور تمام ممالک اس کے سدباب کے لیے جدوجہد کررہے ہیں؛ البتہ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر ہی اب تک بہترین طرز عمل ثابت ہوسکی ہیں۔ اسٹیٹ بینک صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل کام کررہا ہے اور تحفظِ عامّہ کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…