منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت تاجر برادری کی کی پیش کردہ تجاویز کو ملک کی معاشی و تجارتی پالیسی سازی میں شامل کرے ، لاہورچیمبر

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر اورنائب صدر میاں زاہد جاوید احمد نے حکومت پر زور دیا ہے کہ تاجر برادری کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے ان کی پیش کردہ تجاویز کو ملک کی معاشی و تجارتی پالیسی سازی میں شامل کرے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار غلام سرور ملک کی سربراہی میں کاٹیج انڈسٹری کے وفد ،عثمان خالد کی سربراہی میں

پروگریسو گروپ، زبیر انصاری کی سربراہی میں اچھر ہ مارکیٹ کے وفد اور چودھری نواز کی سربراہی میں سپر مارکیٹ ڈسٹری بیوٹرز کے وفود سے لاہور چیمبر میں ملاقاتوں کے موقع پر کیا۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ کاٹیج انڈسٹری کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرری ہے کیونکہ یہ نہ صرف لوگوں کیلئے روزگار بلکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے کے فروغ کا بھی ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کاٹیج انڈسٹری کو خاص اہمیت سے اور دیہی علاقوں میں اس کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے اس سے وہاں غربت کا خاتمہ اورشہری علاقوں کی طرف ہجرت کے رجحان میں کمی آئے گی۔ انہوں نے چائنہ، کوریااور امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں چھوٹے کاروباروںکو بڑے پیمانے پر کام کرنے والے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے مساوی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود ملک میں معاشی تنزلی ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حکومت اپنی پالیسیوں اور وسائل میں کاٹیج انڈسٹری کو شامل نہیں کر لیتی اس وقت تک ملک کی معاشی بحالی محض خواب ہی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی زونز کی طرح اعلیٰ سہولیات سے آراستہ کاٹیج سٹی کا جلد قیام حکومت کے معاشی ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہیے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مختلف ٹیکسز سے متعلق اقدامات نے تاجر برادری کے تحفظات دور کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ مشکل ٹیکس نظام اور بار بار ٹیکسز کی ادائیگیوں نے کاروباری برادری کو احتجاج پر مجبور کیا ہے،جو معیشت کیلئے اچھی علامت نہیں ہے ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تاجر برادری کو اعتماد میں لے اور ان کے تحفظات کو فوری

طور پر دور کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مل کر ٹیکس نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے بوجھل نظام سے چھٹکارا پایا جائے ،کیونکہ موجودہ نظام ملک کی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوت کا باعث بن رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…