منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کو ایک ماہ میں 152 ارب روپے کے پرائز بانڈز واپس مل گئے،سی ڈی این ایس

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) عوام الناس نے 40 ہزار روپے مالیت والے پرائز بانڈز واپس کرکے رقوم حاصل کرلی ہیں۔ حکومت کی جانب سے جون 2019 سے 40 ہزار روپے مالیت والے پرائز بانڈز کی فروخت پرپابندی عائد کردی گئی ہے البتہ لوگوں کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ سال مارچ تک

اپنے پاس موجود پرائز بانڈز واپس کرکے روپے لے سکتے ہیں۔مرکزی بنک نے چالیس ہزار روپے کے غیر رجسٹرڈ پرائز بانڈز کی فروخت روک دیلوگوں کی جانب سے 31 اگست 2019 تک 152 ارب روپے مالیت کے پرائز بانڈز واپس کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز(سی ڈی این ایس) کی جانب سے جاری کئے ہیں۔سی ڈی این ایس حکام کو توقع ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے 194 ارب روپے مالیت کے 40 ہزارروپے کی مالیت والے پرائز بانڈز واپس کردیں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست 2019 کے مہینوں میں بالترتیب 40 اور 112 ارب روپے مالیت کے پرائز بانڈز واپس کیے گئے تھے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 24 جون2019 کو ایک سرکولر جاری کیا تھا جس میں تمام کمرشل بینکوں کو ہدایات دی گی تھیں کہ وہ 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی فروخت بند کردیں۔ پرائز بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سہولت دی گئی ہے کہ وہ 31 مارچ 2020 تک اپنے پاس موجود پرائز بانڈز واپس کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…