منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قابلِ تجدید اور متبادل توانائی کے پالیسی مسودے نامکمل قرار

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) شعبہ توانائی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے قابلِ تجدید اور متبادل توانائی کے پالیسی مسودے کو نامکمل، غیر ساختہ اور متعدد قواعد سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ان کے مطابق یہ پالیسی مسودہ قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کے لیے روڈ میپ فراہم کرنے میں ناکام رہے گا۔ سرکاری اور نجی شعبے کی توانائی کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے سابق سربراہان پر مشتمل ماہرین

صوبائی حکومت کے نمائندوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو خط لکھ کر ایسی قابلِ عمل پالیسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا جو واضح اہداف کے ساتھ نئی سرمایہ کاری کو متوجہ کرسکے۔ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے تیار کی گئی حتمی دستاویز ایک مکمل پروکیورمنٹ پالیسی کے بجائے ایک تصوراتی ورکنگ مسودہ ہے، جس کی بنیاد پر اسٹیک ہولڈرز، ڈیولپرز، سرمایہ کار اور عملدرآمد کے ادارے فوری کاروباری ماڈل کے لیے وفاق کی کوششوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ان ماہرین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس قسم کا اے آر ای پالیسی مسودہ لاگو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ غیر ساختہ، نامکمل اور متعدد ریگولیشنز اور قواعد سے متصادم ہے اور شعبہ توانائی کی ترقی کے لیے واضح روڈ میپ فراہم نہیں کرسکتا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پالیسی مسودے بجلی گھروں کی تعمیر سے متعلق صوبوں کے حقوق الجھے ہوئے اور آئین سے ٹکراتے ہیں۔ماہرین نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت توانائی کے ذرائع کی ترقی میں صوبوں کے حصوں کے انضمام پر ریگولیٹری کنٹرول بحال کرے اور صوبے بھی انتظامی اتھارٹی کو بھی بحال کیا جائے تا کہ وہ اپنے خود کے وسائل کو ترقی دے سکیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مجوزہ قومی توانائی پالیسی کے تحت اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ صوبے اپنے اہداف اور مدت پر عملدرآمد کرسکیں، صوبوں کو متعدد ٹیکنالوجیز کے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو ترقی دینے کا ہدف دینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…