بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امپورٹرز ریٹیل پرائس پر سیلز ٹیکس دینے سے انکاری

datetime 8  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)درآمد شدہ اشیاء پر ریٹیل پرائس پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کے فیصلے سے ملک میں درآمد ہونے والے آٹوپارٹس، اشیائے خورونوش، روزمرہ استعمال کی اشیا ء، ہوم اپلائینسز سمیت دیگر اشیاء کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس رک گئی ہے۔ایف بی آرنے اپنے بجٹ میں کیے گئے اقدامات کے تحت ملک میں تجارتی بنیادوں پر درآمد ہونیوالی اشیا کی امپورٹ پرائس کے بجائے ریٹیل پرائس کی بنیادپر سیلزٹیکس

اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو پالیسی ونگ نے پاکستان کسٹمز کے تمام کلکٹریٹس کوباضابطہ خطوط بھی ارسال کردیے۔ ذرائع نے بتایاکہ 30جون2019 تک ملک میں تجارتی بنیادوں پر درآمد ہونیوالے آٹوپارٹس روزمرہ استعمال کی اشیاء کی ویلیوایسسمنٹ اس کی درآمدی قیمت کے تناسب سے کی جاتی تھی لیکن ایف بی آر نے سیلزٹیکس ایکٹ مجریہ 1990 کے تھرڈ شیڈول میں ان اشیاء کو شامل کرکے ان کی مقامی ریٹیل قیمت کے تناسب سے17فیصد سیلزٹیکس درآمدی سطح پر ہی وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے اس بجٹری اقدام سے آٹوپارٹس سمیت دیگر فنش گڈز کے امپورٹرز اور کسٹم حکام کے درمیان تنازعات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور تجارتی بنیادوں پر درآمد ہونے والے سیکڑوں کنسائنمنٹس کی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے کنسائنمنٹس بندرگاہوں پررک گئے ہیں جبکہ کچھ درآمدکنندگان نے درآمدی اشیا کی لاگت میں نمایاں اضافے اور خوردہ سطح پر بڑھی ہوئی قیمتوں پر اشیاء فروخت نہ ہونے کے خدشات کے باعث اپنے کنسائنمنٹس ری ایکسپورٹ کردیے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی تیار مصنوعات پر پاکستان پہنچنے سے قبل ریٹیل قیمت درج کرائی جانے کی ہدایت کی ہے جس سے کمرشل امپورٹرز شدید مشکلات کا شکارہوگئے ہیں اور انہوں نے ریٹیل قیمت پر سیلز ٹیکس ادا کرنے سے انکار کردیا ہے۔کمرشل امپورٹرز کے انکار کی وجہ سے سیکڑوں آٹو پارٹس، الیکٹرانکس آئٹمز، ہوم اپلائنسز، فوڈ آئٹمز سمیت دیگر تیار اشیاء کے کنٹینرزبندرگاہ پر پھنس گئے۔کمرشل امپورٹرز نے استفسارکیا ہے کہ بندر گاہ پر موجود سامان کی ریٹیل قیمت کا تعین کس طرح کیا جاسکتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ریٹیل قیمت میں ڈیوٹی، ٹرانسپورٹیشن، کمیشن اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں لہذا ریٹیل قیمت پرکنسائنمنٹس کی سیلزٹیکس ایسسمنٹ ناانصافی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…