بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ،ماضی کے مقابلے نئی اسکیم میں کم پیسہ وصول

datetime 8  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)مشیر خزانہ کی جانب سے حالیہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو کامیاب قرار دینے کے باوجود درحقیت حکومت ایمنسٹی اسکیم سے توقعات کے مطابق اہداف حاصل نہیں کرپائی۔تفصیلات کے مطابق اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں حکومتی دعوے کے مطابق

ایک لاکھ سے زائد افراد ٹیکس نیٹ کا حصہ بنے ،ایک لاکھ37ہزار افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا جبکہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے بعد 70ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوئے ،تاہم اس حوالے سے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقعات تھیں کہ اس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں100ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولی ہوگی ،تاہم حکومت کی تمام تر کوششوں،اسکیم کی تاریخ میں توسیع اور وزیر اعظم و ایف بی آر حکام کی جانب سے بار بار ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں کو سخت نتائج بھگتنے کی باتوں کے باوجود 70ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع نہ کیا جاسکا ۔بتایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم شاہد خاقان کے دور میں متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیم میں 121 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی تھی ، اس وقت تحریک انصاف نے اسکیم کی شدید مخالفت کی تھی ،موجودہ اسکیم میں اہداف سے کم70ارب کی ٹیکس وصولی ایف بی آر کے نظام پر کاروباری افراد کے عدم اعتماد کا ثبوت ہے ۔واضح رہے کہ کاروباری طبقہ ملک میں کاروباری آسانیوں اور ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار سے پہلے ہی خائف ہے ،ٹیکس نیٹ میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ حکومت آمدن میں اضافے کیلئے سرمایہ کاری کے حصول اور بر آمدات کے فروغ پر توجہ دینے کے بجائے ہمیشہ سے آسان راستے منتخب کرتی آئی ہے جس میں مرکزی بینک سے قرضے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دینے والے افراد پر مزید بوجھ ڈالنا شامل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…