جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کے بعد سعودی ریال،برطانوی پاؤنڈ،اماراتی درہم کو بھی پر لگ گئے،قیمتوں میں بڑا اضافہ،تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئے

datetime 15  جون‬‮  2019 |

کراچی( آن لائن)ڈالر کی دیکھا دیکھی دوسری کرنسیز نے بھی اڑان بھر لی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ایک ہفتے کے دوران برطانوی پانڈ 10روپے مہنگا ہو گیا۔پانڈ نے ڈبل سینچر کر لی اور 200کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ جب کہ اوپن مارکیٹ میں یورو 11 روپے مہنگا ہو گیا ہے۔ایک ہفتے میں یورو 176روپے تک پہنچ گیا۔جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک ہفتے میں 8روپے 70پیسے مہنگا ہوا،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 157 روپے 50 پیسے کا ہو گیا ہے۔

جب کہ سعودی ریال بھی ایک ہفتے کے دوران 2.7 روپے مہنگا ہو گیا۔اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت بھی 42روپے ہو گئی۔ایک ہفتے کے دوران امارات درہم 2.6 روپے مہنگا ہوا۔اوپن مارکیٹ میں اماراتی درہم 43 روپے کا ہو گیا۔جب کہ دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ انٹر بنک میں 2.80روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت156.80 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں تین روپے اضافے کے بعد 157.50روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ڈالر نے ایک مرتبہ پھر اونچی اڑان بھرلی ہے اور ڈالر انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں 2.80روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 156.80روپے ہوگئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تین روپے اضافے کے بعد157.50روپے ہوگئی ہے۔ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ماہرین نے ڈالر 153کی سطح کو عبور کرنے اور روپے کی قدر میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی اونچی اڑان پاکستانی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے خطرناک ہے اس لیے روپے کی قدر میں اضافہ کیلئے اقدامات کیے جائیں کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ معیشت کیلئے خطرناک ہے اور اس سے صنعتی شعبہ متاثر ہوگا، ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں کمی سے صنعتوں میں استعمال ہونے والا درآمدی خام مال مہنگا ہونے سے صنعتی شعبہ متاثر ہورہا ہے کیونکہ اس سے اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…