ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایمنسٹی سکیم سے ٹیکس آمدن اور حکومتی ریونیو میں اضافہ سے ملک معاشی طور پر مستحکم ہوگا : پیاف

datetime 17  مئی‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے حکومت کی جانب سے نئی ایمنسٹی سکیم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سکیم سے کاروباری برادری اور ٹیکس حکام کے درمیان اعتماد سازی کی فضا بحال ہو گی اور خوف ہراس والے ماحول کا خاتمہ ہو گا اور اسطرح اس سکیم کے اہداف پورے ہونگے اور یہ سکیم کامیابی سے ہمکنار ہوگی ۔۔

چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر ،سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس سکیم سے ٹیکس نیٹ اور وائیٹ اکنامی میں اضافہ سے ملک معاشی استحکام کی طرف گامزن ہوگا۔ نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اجراء سے پاکستانیوں کے اثاثوں کی ڈکلیریشن سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوگا اور حکومتی ریونیو میں اضافہ سے ملک معاشی طور پر مستحکم ہونے سے ملک کو بیرونی اداروں کو ان کی شرائط پر قرضے حاصل کرنے سے نجات مل جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایمنسٹی اسکیم کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی ایمنسٹی سکیم لانا ملکی مفاد میں ہے تاکہ جو پاکستانی اپنے اثاثے بروقت ڈکلیئر کرکے حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرسکے وہ بھی اس سکیم سے استفادہ حاصل کرکے اپنے کاروبار کو قانونی شکل دے سکیں۔ سابق حکومت کی ایمنسٹی سکیم 121ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوئے اور 80ہزار کے قریب لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے انہوںنے کہا کہ ایمسنٹی سکیم کا مقصد ملک و بیرون ملک موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی ڈکلیریشن سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہے۔انہوںنے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بڑھانے ،کالادھن سفید کرنے، ایس ایم ایز ،ایکسپورٹ ویئر ہائوسز اور ایگری کلچر سیکٹر کے مراعات اور اسمگلنگ کی روک تھام ازحد ضروری ہے ۔انہوںنے کہا کہ نئی ایمنسٹی سکیم سے پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہتر ہوگا۔تمام ٹیکس دہندگان اس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کی ترقی میں معاون بنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…