جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں تیزی سے بڑھتی مہنگائی نے سفید پوش طبقے کا جینا محال کر دیا

datetime 10  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ملک میں تیزی سے بڑھتی مہنگائی نے سفید پوش طبقے کا جینا محال کر دیاہے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اشیائے ضروریہ کی ہر شے کو ہی پر لگ گئے۔کراچی میں ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے من مانیاں کرتے ہوئے دودھ کی قیمت میں ایک دم 23 روپے فی لیٹر کا

اضافہ کر دیا۔ڈیری فارمرز ایکشن کمیٹی نے من مانیاں کرتے ہوئے نئے نرخ نامے کا اعلان کر دیا۔ جس کے مطابق دودھ کا ہول سیل ریٹ 83 روپے سے بڑھا کر 108 روپیہ فی لیٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد شہریوں کو دودھ 120 روپے فی لیٹر ملے گا۔ڈیری کیٹل فارمز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر گجر نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ سے فارمز کے استعمال کی تمام ہی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔دودھ فروخت کرنے والے دکانداروں نے کہاکہ شہری انتظامیہ اور عوام کے تمام تر ردعمل کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے جب کہ شہریوں نے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کو حکومت کی نااہلی ہے۔دوسری جانب پٹرول، بجلی، گیس اور دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے آٹے کی قیمت میں 10 روپے فی من اضافہ کا عندیہ دے دیاہے۔فلور ملز ایسوی ایشن نے حالیہ مہنگائی کو جواز بناتے ہوئے حکومت کو آٹے کی قیمت میں اضافہ کے لیے مراسلہ لکھاہے۔فلور ملز کے مراسلے میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں پانچ روپے کا اضافے کا مطالبہ کیا گیاہے۔مہنگائی سے خوفزدہ شہریوں کا کہناہے کہ اگر آٹے کی قیمت بڑھی تو دال روٹی پوری کرنا بھی مشکل ہو جائے گا جب کہ دکانداروں کا موقف ہے کہ اگر انہیں فیکٹری سی ہی آٹا مہنگا ملے گا تو اضافی نرخ پر فروخت کرنا ان کی مجبوری ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…