جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی یک دم لمبی چھلانگ!قیمت کہاں سے کہاں تک جاپہنچی؟جان کر آپ بھی سرپکڑ کر بیٹھ جائینگے

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

کراچی ( آن لائن ،این این آئی ،مانیٹرنگ ڈیسک)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے کے بعد ڈالر کی قیمت میں بھی 16پیسے اضافہ ہو گیا ہے ۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق منگل کے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 16 پیسے اضافہ ہو گیاہے ‘جس کے بعد ڈالر 140.89 روپے سے بڑھ کر 141.05 روپے ہو گئی ہے۔

دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئررہنمااور سابق گورنرسندھ محمدزبیر نے آئندہ تین ماہ میں ڈالر 160 روپے تک جانے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں معیشت کہاں جارہی ہے اس پر بحث ہونا اچھی بات ہے، اس میں سب سے پہلے حکومت کو اپنے منصوبے پیش کرنے چاہئیں کہ ہم یہ کریں گے اور ایسے کریں گے۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں آمدن نہیں بڑھے گی۔ اصلاحات نہیں ہوں گی تو ملکی معیشت آگے نہیں چلے گی۔محمدزبیر نے کہا کہ جب حکومت کی تیاری نہیں ہوگی، احساس نہیں ہوگا تو اس لیے حکومت سے ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں، لیکن اس وجہ سے معیشت کا برا حال ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ سارے اقدامات آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے ہی کرلے تاکہ یہ تنقید نہ ہو کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط مانی ہیں۔(ن )لیگ کی حکومت ڈالر کی قیمت102روپے تک رکھنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟ اسی متعلق معروف معاشی ماہر عابد سلہری نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک کا ریکارڈ یہ کہتا ہے کہ ن لیگ کی حکومت نے ڈالر کو 102 روپے پر رکھنے کیلئے پہلے چار سالوں میں 22 ارب ڈالر اوپن مارکیٹ میں پھینکے۔

اب بھی اگر آپ کے پاس اپنے ڈالر ہیں تو آپ ایسا کر سکتے ہیں۔لیکن اگر آپ کے پاس مشکل سے دو تین ہفتے کی امپورٹ کے برابر فارن ایکسچینج ریزرو ہو گا تو پھر ڈالر کو اپنی اصل ویلیو پر کسی نہ کسی حکومت کو لانا ہی تھا اور روپے کی قدر گرنی ہی تھی۔اسی طرح اگر ہم انرجی کے ٹیرف کی بات کریں تو اوگرا کی جو سفارشات حکومت کے پاس آتی ہیں تو الیکشن کے سال میں انہیں ن لیگ نے نہیں مانا اس کے بعد نگران حکومت نے بھی نہیں مانا اور پھر پی ٹی آئی نے بھی نہیں مانا،لیکن پھر کسی نہ کسی حکومت کو تو یہ کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…