جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایکسپورٹرز کوریفنڈزملے بغیر ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن نہیں ہے،ایس ایم منیر

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدرایس ایم منیر نے کہاہے کہ تاجر، صنعتکاراورایکسپورٹرز ملک کا سرمایہ ہیں اورمشکل ترین حالات میں بھی کاروبار جاری رکھتے ہوئے جہاد کررہے ہیں،انہیں اچھے دنوں کا انتظارہے ،اس وقت اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ ایکسپورٹ میں اضافہ اور امپورٹ میں کمی ہوتاکہ تجارتی خسارہ کم ہوسکے ۔

لیکن موجودہ حکومت جب تک ایکسپورٹرز کو انکے ریفنڈز ادا نہیں کرے گی اس وقت تک ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن نہیں ہے اس لئے حکومت بزنس کمیونٹی کی جدوجہد کوتسلیم کرتے ہوئے انکے مسائل حل کرے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ شب اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کیا۔عشائیہ میں یو بی جی کے سیکریٹری جنرل زبیرطفیل،سینیٹر عبدالحسیب خان،خالدتواب،یو بی جی کے ترجمان گلزار فیروز،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور طارق حلیم،زاہد سعید، شاہین الیاس سروانہ،سمیع خان،حنیف گوہر،وسیم وہرہ،راشدہاشمی،شکیل ڈھینگڑا، ناصر الدین شیخ،ذوالفقارشیخ،مس عائشہ بیلا ملک اور دیگر تاجروصنعتکار شریک تھے۔ایس ایم منیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے الیکشن28دسمبر کو ہونگے اور مسلسل 4سال شکست کھانے والا گروپ ایک بار پھر یو بی جی کے مدمقابل ہے مگر اسے ملک بھر سے بمشکل چند امیدوار ہی دستیاب ہوسکے ہیں اور ان امیدواروں کو یقین ہے کہ وہ شکست سے دوچار ہونگے کیونکہ 90فیصد ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ جو لوگ مجھے کمزور سمجھ کر اندھرے میں فیڈریشن کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ ناسمجھ ہیں کیونکہ یہ ادارہ اب کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ بزنس کمیونٹی کا سرمایہ ہے جس کی ہم مل کر حفاظت کررہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کا پیاراور ا عتماد ہی میرا سرمایہ ہے،ہم نے چار سال پہلے فیڈریشن چیمبر آف کامرس سے لوٹ مار مافیا کا صفایا کیا تھا ،وہی مافیا یو بی جی کوششوں سے فیڈریشن میں جمع ہونے والے فنڈزاور دیگر وسائل کودوبارہ لوٹنے کی فکر میں ہے ماضی میں اپوزیشن گروپ نے ایف پی سی سی آئی کے ملازمین کا فنڈ بھی ہڑپ کرلیا تھامگر اب ہم انہیں فیڈریشن کو مزید نقصان پہنچانے نہیں دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…