جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا کے بیرون ملک بنکوں میں منجمدرقم سے بیلجیئم کو اربوں ڈالر فائدے کاانکشاف

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

طرابلس(این این آئی)لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں مقتول کرنل معمر قذافی کے دورِ حکومت میں اربوں ڈالرز بیرو ن ملک بنکوں میں سرمایہ کاری یا دوسرے عنوانات سے جمع کرائے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قذافی حکومت کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک برپا ہونے کے بعد یہ تمام اثاثے منجمد کردیے تھے۔لیکن کسی کو ان اثاثوں کی مالیت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔

تاآنکہ بیلجیئم کے ایک بنک نے ان منجمد اثاثوں پر سود کی رقم جاری کی ہے اور اس سے اس یورپی ملک میں لیبیا کی منجمد کی گئی اربوں ڈالرز کی رقوم کا بھی پتا چلا ہے۔غیرملکی جریدے کی ایک رپورٹ کے مطابق لیبیا کی سرمایہ کاری کارپوریشن بیرون ملک ان اثاثوں کے انتظام کی ذمے دار ہے۔یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک نے معمر قذافی کے منجمد اکاؤنٹس میں سے سود کی مد میں رقم ادا کی ہے۔ برسلز میں واقع ایک بنک یورو کلئیر سے لیبیا کے ایک منجمد اکاؤنٹ سے سود کی مد میں رقم کی ادائی کے بعد سے بیلجیئم میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ یہ رقم کس کو ادا کی گئی ہے؟لیبیا کی پارلیمان کی مالیاتی کمیٹی کے ایک رکن عبدالسلام نیسیہ کا کہنا تھاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایشو رائے عامہ اور قومی سلامتی کا ایک معاملہ بن چکا ہے مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ بیلجیئم میں تو لیبیا کے ان فنڈز کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے لیکن اس رقم کے مالک نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔بالخصوص ایسی صورت حال میں جب ان فنڈز کے غلط استعمال کی بھی اطلاعات منظرعام پر آرہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…