منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

رواں مالی سال کے دوران کاروں کی فروخت میں 3.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا : اعداد وشمار جاری

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان آٹوموٹِو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں کاروں کی فروخت میں 3.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور مجموعی طور پر 72 ہزار 5 سو 63 یونٹس فروخت ہوئے۔ اس سلسلے میں 1300 سی سی سے زائد والی ٹویوٹا کرولا کی فروخت سب سے زیادہ رہی اور جولائی سے

اگست کے درمیان 18 ہزار 8 سو 14 کاریں فروخت ہوئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران فروخت شدہ کاروں کی تعداد 16 ہزار 9 سو 81 سے 10 فیصد زائد تھی۔ دوسری جانب جولائی تا اکتوبر کے دوران ہونڈا کی سٹی اور سوک کاریں 16 ہزار 6 سو 43 کی تعدادمیں فروخت ہوئیں جو گزشتہ سال کے اسی درمیان فروخت ہونے والی تعداد سے 20 فیصد زائد ہے۔ سوزوکی نے اپنی مقبول ترین گاڑی کی فروخت روک دی علاوہ ازیں سوزوکی سوئفٹ کاروں کی فروخت میں بھی 30 فیصد اضافہ ہوا اور فروخت شدہ کاروں کی تعداد ایک ہزار 8 سو 37 ہوگئی۔ اسی طرح 1000 سی سی کٹیگری کی سوزوکی کلٹس، اور ویگن آر کی فروخت بھی بڑھ کر بالترتیب 7 ہزار 2 سو 30 اور 11 ہزار 2 سو 28 ہوگئی جو اس سے قبل 6 ہزار 6 سو 39 اور 9 ہزار 2 سو 67 تھی۔ واضح رہے کہ ویگن آر کی لانچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اس کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب کم فروخت ہونے والی گاڑیوں میں مشہور و معروف سوزوکی مہران اور بولان کی فروخت 11 ہزار 3 سو 99 اور 5 ہزار 4 سو 12 یونٹ رہی۔ پاکستان میں چینی گاڑی فروخت کے لیے پیش اسی طرح ٹویوٹا فورچیونر 8 سو 64، ہونڈا بی آر وی ایک ہزار 8 سو 16 اور سوزوکی راوی کے فروخت شدہ یونٹ کی تعداد 5 ہزار 8 سو 8 رہی جو خاصی کم ہے۔ مذکورہ عرصے کے دوران ٹویوٹا ہائیلکس 2 ہزار ایک سو 50 کی تعداد میں فروخت ہوئیں جو گزشتہ سال اسی عرصے میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد سے 2.5 فیصد زائد ہے۔ اس سلسلے میں ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سید دانیال عادل کا کہنا تھا کہ سال بہ سال کی بنیاد پر اکتوبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ اضافہ گزشتہ کچھ ماہ سے جاری ہے۔ نئی گاڑیاں خریدتے وقت یہ غلطیاں کرنے سے بچیں اس کے علاہ گاڑیوں کی ماہانہ فروخت بھی بڑھ کر 28 فیصد ہوگئی جس کی ایک بڑی وجہ ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں ورکنگ ڈیز کا زیادہ ہونا بھی ہے۔ علاوہ ازیں روپے کی قدر میں مزید کمی ہونے کے امکانا ت کے باعث بھی گاہکوں نے خریداری میں جلدی دکھائی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…