کے الیکٹرک کو فروخت سے قبل واجبات کا معاملہ حل کرنا ہوگا

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  14:00

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی شہنگائی الیکٹرک کو فروخت سے پہلے کمپنی کو تمام واجبات کے معاملے کو حل کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کے الیکٹرک اور دیگر سرکاری اداروں کے درمیان جاری مالی تنازع کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ کے الیکٹرک انتظامیہ نے بتایا کہ کمپنی مختلف مد میں حکومت کی 50 ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے لیکن اسی دوران مختلف سرکاری محکموں اور کمپنیوں کو بجلی کمپنی کے 65 ارب روپے

ادا کرنے ہیں۔ بجلی کی فراہمی میں ناکامی، کے الیکٹرک پر 50 لاکھ روپے جرمانہ اس ضمن میں ایک تجویز دی گئی کہ تمام اداروں پر زیر التوا ادائیگیوں کے لیے قرضے کا تبادلہ ہونا چاہیے جبکہ کمیٹی ارکان نے اس تجویز کو سراہا لیکن بیوروکریسی نے اس کی مخالفت کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تنازع کے باعث کے الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیز کمپنی کے درمیان بجلی کی خریداری کا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا جبکہ کے الیکٹرک نے 3 سال تک جمود کو برقرار رکھنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے ایک حکم امتناع حاصل کیا تھا۔ اجلاس کے دوران سیکریٹری توانائی عرفان الٰہی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو نیشنل ڈسپیچ اور ٹرانسمیشن کمپنی، سینٹرل پاور پرچیز کمپنی اور سوئی سدرن گیس کمپنی اور دیگر اداروں کو رقم کی ادائیگی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب کے الیکٹرک کو ادائیگی کرنی ہے تو دوسری جانب کچھ سبسڈی کی رقم ہے جو وزارت خزانہ نے دینی ہے، اس کے علاوہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج (کے ڈبلیو ایس بی) کے بل التوا کا شکار ہیں کہ کیوں وفاقی حکومت کو کیوں ان بلوں کی ادائیگی کرنی چاہیے‘۔ بحرانی صورتحال سے بچنے کے حوالے سے ایک سوال پر سیکریٹری توانائی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نکلنے کا بہترین طریقہ کے الیکٹرک اور دیگر حکومتی اداروں کے درمیان دو طرفہ معاہدے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہماری تجویز ہے کہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی اور دیگر اداروں کے درمیان تمام معاملات ٹھیک کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدہ ہونا چاہیے لیکن میں یہ تجویز دوں گا کہ یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ اگر سینیٹ کمیٹی اقدامات کرے اور وزارت خزانہ کو ہدایت دیں کہ وہ کے الیکٹرک، پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کا مشترکہ اجلاس منعقد کریں‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں