ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

گوداموں میں پڑی70 لاکھ میٹرک ٹن گندم خراب ہو رہی ہے: خانیوال چیمبر آف کامرس

datetime 28  اکتوبر‬‮  2018 |

ملتان( این این آئی)خانیوال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ70 لاکھ میٹرک ٹن گندم سرکاری گوداموں میں پڑی خراب ہو رہی ہے ، اس کی خریداری کیلئے اٹھائے گئے قر ض پر بینکوں کو اربوں روپے کا سود ادا کیا جا چکا ہے ،22 کروڑ عوام کو سستے آ ٹے کی فرہمی کیلئے فلور ملوں کو 1200روپے من کے حساب سے اجراء کیا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال چند لوگ ذاتی مفادات کیلئے لاکھوں ٹن زائدگندم کی خریداری کر کے قومی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال د یتے ہیں جس کو روکنے کیلئے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فلور ملوں کو تین سال پرانی گندم فراہم کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ناقص آ ٹے کی شکا یا ت عام ہیں۔ گوداموں میں پڑی گندم فوری طور پر ملوں کو1200 روپے من کے حساب سے فراہم کی جائے تاکہ شہریوں کوسستا آ ٹا بھی مل سکے اور اربوں روپے کی آمدن بھی خرانے میں جمع ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف توصو بائی وزیر خوارک شہریوں کو ملاوٹ سے پاک اشیاء کی فراہمی کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف اربوں روپے کی گندم گوداموں میں پڑی خراب ہو رہی ہے جس کا فوری نوٹس لیا جا نا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے محکمہ خواراک جہاں شہریوں کو خالص خوارک کی فراہمی کیلئے بہت سے اقدامات کر رہا ہے وہیں گندم کے معیار پر بھی توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو معیاری آٹے کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…