ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس اکٹھاکرنیوالے اداروں میں بھی کڑا احتساب شروع کرنیکی ضرورت ہے : ٹیکس ایڈوائزرزایسوسی ایشن

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی) حکومت کوسولو فلائٹ اور عجلت میں پالیسیو ں کی تشکیل کی روش کو ترک کرنا ہوگا ،ٹیکس اکٹھاکرنے والے اداروں میں بھی کڑا احتساب شروع کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد ان کی موثر مانیٹرنگ کا نظام لایا جائے ،چھوٹے تاجروں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان کی کیٹگریز بنا کر فکس ٹیکس کا نظام لایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹیکس ایڈوائز رزایسوسی ایشن کے

صدر میاں عبدالغفار ،سیکرٹری جنرل خواجہ ریاض حسین سمیت دیگر نے ’’ کمزور معیشت اور حکومت کی سمت ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود حکومت کی سمت کا تعین نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے تذبذب کی فضاء ہے ۔ ایسی صورتحال میں صرف بیرونی ہی نہیں بلکہ مقامی سرمایہ کاربھی دیکھو اورانتظار کرو کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں جس سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا اعتمادبحال کرنے کے لئے مشاورت کاعمل شروع کرے ۔تمام اسٹیک ہولڈر، چیمبرز، یونینز، ٹریڈ ایسوسی ایشن سمیت دیگر کو جب تک آن بورڈ نہیں لیا جائے گا اس وقت تک حکومت کامیابمعاشی پالیسی نہیں بناسکتی ۔ سابقہ حکومت کی ناکامی سے سبق سیکھا جائے جو اپنے مرضی کے ٹیکسز لگا کر بھی ٹیکس نیٹ اور ٹیکس بیس کو بڑھانے میں ناکام رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں عوام کے دُکھوں کا مدوا نہیں کیا گیا جس سے بے چینی بڑھ رہی ہے اس لئے حکومت ریلیف دینے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…