منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے پاکستان سے تمام قرضوں کی شفاف تفصیل مانگ لی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے تمام قرضوں کی شفاف تفصیل مانگ لی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوہ نے انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات میں مالی مدد کی باضابطہ درخواست دی تھی۔  اس موقع پر آئی ایم ایف سربراہ کرسٹین

لگارڈ کا کہنا تھا کہ قرض دینے کے لیے دیکھا جاتا ہے کہ ملک کس نوعیت کا قرض لیے ہوئے ہے اور مزید کتنے قرض کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے۔ کرسٹین لگارڈ نے کہا کہ قرضوں کی شفافیت اور ان کے واضح ہونے کی شرط صرف پاکستان پر نہیں، اس کا اطلاق قرض مانگنے والے تمام ممالک پر ہوتا ہے، تاکہ قرضوں کی پائیداری سے متعلق اپنے رکن ممالک کا اتفاق حاصل کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گورننس اور کرپشن کے حوالوں سے آئی ایم ایف بورڈ کے طے کردہ اصولوں کے سبب ہے، جن کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔ کرسٹین لوگارڈ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق بھی تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے اور ادارے کی کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ رکن ممالک کو یہ معاونت فراہم کی جائے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کو پاکستان کی جانب سے قرض کی درخواست پر امریکا کی بھی نظریں ہیں، جس کا کہنا ہے کہ قرضوں کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن کو ہر زوایئے سے دیکھا جائے گا۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ قرضوں کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بھی دیکھی جائےگی۔ پاکستان اس حالت میں چینی قرضوں کے سبب بھی آیا۔ممکن ہےحکومتوں کا خیال ہو کہ بیل آؤٹ کے لیے یہ قرض اتنا بوجھل نہیں ہوگا، مگر اب سخت تر ہوتا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف ٹیم چند ہفتوں میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گی تاکہ ممکنہ معاشی سپورٹ پروگرام وضع کیا جاسکے۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ اگر آئی ایف قرض دے گا تو کن شرائط پر دے گا اور آیا انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گا یا نہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کو اس سال اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر درکار ہیں تاہم حکومت اس پروگرام کو بیل آؤٹ پیکج کا نام نہیں دینا چاہتی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…