ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان دنیا کی کمزور ترین مارکیٹ میں کتنے نمبر پر آگیا،ڈالر کی قیمت 140 کے بجائے کہاں تک پہنچ سکتی ہے؟ماہرین نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)روپے کی قدر میں حالیہ بے قدری کے بعد پاکستان دنیا کی تیسری کمزور ترین مارکیٹ بن گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان نے کرنسی کی بے قدری میں اپنے خطے کے دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستانی روپیہ سستی ترین کرنسی بن گیا ہے۔

سال 1995 کے بعد پہلی بار پاکستانی کرنسی کم ترین سطح پر پہنچی ہے جب کہ ماہرین نے آئندہ چند روز کے دوران روپے کی قدر میں مزید کمی کا خدشہ بھی ظاہر کر رکھا ہے۔دو ماہ قبل کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری آئی تھی اور امریکی ڈالر سستا ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے مسلسل روپے کی قدر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے مطابق سال 2018 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5.9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سال 2019 تک 0.6 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 19-2018 کا بجٹ خسارہ 6.5 جب کہ 20-2019 میں یہ خسارہ 6.9فیصد تک پہنچ جائے گا۔گزشتہ دنوں عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد نے سالانہ جائزہ کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس بڑھانے، رعایتی قیمتیں ختم کرنے، بنیادی سہولتوں کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روپے کی قدر مزید گرانے کی مطالبہ نما تجاویز دی تھیں۔پاکستانی حکام کی جانب سے ابتدا میں ان تجاویز کو نہ ماننے کا عندیہ دیا گیا تاہم دو روز قبل انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں نو روپے سے زائد اضافہ ہوا تھا۔اقتصادی ماہرین نے حکومتی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روپیہ اب بھی اوور ویلیو ہے اور قدر مزید کھو کر فی ڈالر 145 روپے تک جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…