ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عدالتوں میں ایک ارب ڈالرز کی وصولی کے لیے غیرملکیوں کی 257 درخواستیں دائر

datetime 9  اکتوبر‬‮  2018 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کی عدالتوں میں غیر ملکیوں نے تین ارب 60 کروڑ ریال ( قریباً ایک ارب ڈالر) مالیت کی رقوم کی وصولی کے لیے گذشتہ بارہ ماہ کے دوران میں 257 درخواستیں دائر کی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزارتِ انصاف میں قائم بزنس انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے مطابق حال ہی میں دوسرے ممالک میں رقوم دلاپانے کے دعووں سے متعلق

غیرملکی عدالتی احکام اور فیصلوں کے نفاذ کے بعد سعودی عرب میں بھی غیر ملکیوں کی مقدمات کے اندراج کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک بھی سعودی عدالتوں کے ساتھ تعاون سے ایسے کیسوں کے اندراج کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔وزارت نے وضاحت کی کہ ان فیصلوں پر پہلے مختلف ممالک میں عمل درآمد کیا گیا تھا۔ان میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک ،یورپی ممالک (سوئٹزرلینڈ ، فرانس اور برطانیہ وغیرہ ) اور مشرقی ایشیا کی اقوام چین اور جاپان شامل ہیں۔یہ احکامات غیر ملکی عدالتوں یا غیرملکی مصالحت کاروں یا ثالثی ٹرائبیونل نے جاری کیے تھے۔وزارت کے مطابق سعودی عرب نیویارک کنونشن برائے تسلیم اور نفاذ غیرملکی ثالثی ایوارڈز میں شامل ہے۔اس کا مقصد اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں غیرملکی ایوارڈز کا نفاذ ہے۔اس سے ان ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا اور سعودی عدلیہ کے عالمی وقار میں اضافہ ہوگا ۔سعوی عرب کی عمل درآمدی عدالتیں بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنوں کی پاسداری کرتے ہوئے دوسرے ممالک میں جاری کردہ فیصلوں کے نفاذ کی ذمے دار ہیں۔ان احکامات کو قابلِ نفاذ دستاویزات کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…