ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 5.50 روپے اضافہ

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اوگرہ نوٹیفکیشن کے بغیر ہی بین الاقوامی قیمت میں 38ڈالر فی میٹرک ٹن اضافے کو جواز بنا کرقیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔ چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان ، چیئر مین و فاؤنڈر ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایل پی جی چیمبر آف پاکستان) عرفان کھوکھرنے بتایا کہ ایل پی جی فی کلوتقریباً5.50 روپے

اضافہ کر دیا گیا ہے ،گھریلو سلنڈر65.58روپے،کمرشل سلنڈر 252.35روپے اور فی ٹن میں 5557.74روپے مہنگی ہو گئی ہے اور فی کلوتقریباً142.29روپے، گھریلو سلنڈر1679.01 ،کمرشل سلنڈر 6459.95روپے پر عام صارفین کو میسر ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میںSaudi Aramco Contact Priceاضافے کے بعد 617ڈالر سے بڑھ کر 655 ڈالر فی ٹن ہو گئی ہے۔اوگرہ کی طرف سے ستمبر 2018 میں مقرر کردہ قیمتیں فی کلو قیمت 136.73 روپے ، گھریلو سلنڈر 1613.43روپے، کمرشل سلنڈر6207.60 روپے اور فی میٹرک ٹن قیمت 136732.26 روپے تھی جو کہ اوگرہ نوٹیفکیشن کے بعد بڑھ جائیں گی ۔عرفان کھوکھر نے بتایا کہ ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفکیشن تا حال جاری نہیں کیا گیا جس پر انہوں نے حکومت وقت سے جلد از جلد ٹیکسوں کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سستی گیس دینے کیلئے نوٹیفکیشن کا جلد از جلد جاری ہونا بہت ضروری ہے۔ عرفان کھوکھرنے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص اوگرہ نوٹیفکیشن میں متعین کردہ قیمت سے ذیادہ قیمت پر ایل پی جی کسی صورت فروخت نہ کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سردیوں کیلئے منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے موسم میں ایل پی جی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…