ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری سطح پر عدم دلچسپی کے باعث شتر مرغ فارمنگ منصوبے میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی)سرکاری سطح پر عدم دلچسپی کے باعث شتر مرغ فارمنگ منصوبے میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا جبکہ فارمرز نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہمارے مطالبات کو زیر غور نہ لایا گیا تو شتر مرغوں کے ہمراہ مرکزی شاہراہوں پر احتجاج کیا جائے گا ۔2016ء میں شتر مرغ فارمنگ منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو

راغب کرنے کیلئے بھرپور تشہیری مہم بھی چلائی گئی تھی ۔حکومت کی جانب سے شتر مرغ فارمرز کو سہولیات اور مراعات دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھاتاہم حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل اس منصوبے کو اچانک بند کر دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق اس شعبے میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے ۔ فارمرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فارمرز کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کی ایک قسط بھی جاری ہوئی لیکن اس کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ اگر بحالی کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ ہے ۔شتر مرغ فارمرز کے رہنما رانا خالد محمود نے کہا ہے حکومت کے کہنے پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ اس وقت فارمز میں شتر مرغ گوشت کے لئے تیار ہیں لیکن خریداری نہیں ۔ اگر حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی اور ہمارے مطالبات زیر غور نہ لائے گئے تو ایسا احتجاج ہوگا کہ پوری دنیا میں کبھی ایسا احتجاج نہیں ہوا گا۔ تمام فارمرز اور عملہ شتر مرغوں کے ہمراہ مرکزی شاہراہوں پر احتجاج کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…