لاہور(این این آئی)سرکاری سطح پر عدم دلچسپی کے باعث شتر مرغ فارمنگ منصوبے میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا جبکہ فارمرز نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہمارے مطالبات کو زیر غور نہ لایا گیا تو شتر مرغوں کے ہمراہ مرکزی شاہراہوں پر احتجاج کیا جائے گا ۔2016ء میں شتر مرغ فارمنگ منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو
راغب کرنے کیلئے بھرپور تشہیری مہم بھی چلائی گئی تھی ۔حکومت کی جانب سے شتر مرغ فارمرز کو سہولیات اور مراعات دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھاتاہم حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل اس منصوبے کو اچانک بند کر دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق اس شعبے میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے ۔ فارمرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فارمرز کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کی ایک قسط بھی جاری ہوئی لیکن اس کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ اگر بحالی کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ ہے ۔شتر مرغ فارمرز کے رہنما رانا خالد محمود نے کہا ہے حکومت کے کہنے پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ اس وقت فارمز میں شتر مرغ گوشت کے لئے تیار ہیں لیکن خریداری نہیں ۔ اگر حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی اور ہمارے مطالبات زیر غور نہ لائے گئے تو ایسا احتجاج ہوگا کہ پوری دنیا میں کبھی ایسا احتجاج نہیں ہوا گا۔ تمام فارمرز اور عملہ شتر مرغوں کے ہمراہ مرکزی شاہراہوں پر احتجاج کرے گا۔