اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

یکم اکتوبرسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کیا جائے : پیاف

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کیا جائے، پچھلے چند ماہ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں بار بار اضافے سے منفی اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں اور تاجر و صنعتکار کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ شروع ہو گیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کے لئے اوگرا کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو رد کیا جائے اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 50 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری حکومت کو بھجوائی ہے،فیول کی قیمتوں میں پچھلے چند ماہ کے دوران بار بار اضافے سے صنعت و تجارت سے وابستہ تمام شعبہ جات پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں ۔عوام پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز ادا کر رہی ہے ،حکومت پٹرولیم مصنوعات کی مد میں اصل قیمت پر70%تک ٹیکس وصول کر رہی ہے جو دنیا بھر میں انتہائی بلند سطح کی شرح رکھنے والے چند ملکوں میں سے ایک ہے اس کے باوجود قیمتوں میں بتدریج اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سینئر وائس چیئرمین ناصر حمیدخان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ ایک پریس ریلیز کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قیمتیں بڑھانے سے متعلق اوگرا کی سمری کو رد کیا جائے حکومت اگر حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی بجائے ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح کم کرے، غیر پیداواری اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ پیداواری لاگت اور مہنگائی کم ہو سکے انھوں نے کہ کہ پٹرول صنعت و تجارت و زراعت کے لئے خام مال کا درجہ رکھتا ہے اور اسکی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فیول کی قیمتین بڑھنے سے بجلی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اورمہنگی بجلی ،مہنگی پیدوار کا باعث ہے جس سے ملک میں ہوشربا مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔جس کی وجہ سے صنعتکاروں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ حکومت کے ریونیو میں بھی کمی واقع ہورہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…