ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

آج ٹیکس دہندہ ہارگیا : لینڈ اور آٹومافیا جیت گئی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی حکومت کے ضمنی بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے دیا۔ سگریٹ، مہنگے موبائل پر ٹیکس بڑھانے اور کم سے کم پینشن 10 ہزار کرنے کی تجویز۔ گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تحریک انصاف والے پانچ سال تک کہتے رہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھائیں، ہم نے بہت زیادہ لابی کو برداشت کیا۔

اور نان فائلر پر پابندی لگائی لیکن انہوں نے وہ ہٹادی جو ایک برا قدم ہے، اس سے ٹیکس دینے والا طبقہ ہار گیا اور نان فائلر جیت گیا ہے کیونکہ اب نان فائلر بھی گاڑی خرید سکتا ہے جس سے ٹیکس پیئر کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اچھا ہوتا کہ نان فائلر پر عائد قدغن لگی رہنے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ آج ٹیکس دینےوالا ہار گیا لینڈ مافیا اور آٹو مافیا جیت گیا ، حکومت نے نان فائلرز کو سہولت دے کر ٹیکس دینےوالے کو پیچھےدھکیل دیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہماری حکومت نے دو لاکھ سے زائد آمدن والوں کا ٹیکس کم کیا تھا لیکن انہوں نے وہ پھر بڑھادیا۔ سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ حکومت نے کل بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو ڈیڑھ سو ارب روپے کا ٹیکہ لگایا، اس سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تسلیم کیا کہ وہ ہمارے دور کے سی پیک کے منصوبوں کو چلنے دیں گے، انہوں نے مہم چلائی تھی کہ ہمارے پروجیکٹ غلط ہیں لیکن آج تسلیم کیا کہ وہ پروجیکٹ ملکی مفاد میں تھے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے بینکنگ ٹرانزکشن پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جس سے لاکھ روپے ٹرانزکشن پر 200 روپے کٹیں گے، یہ بالکل آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن بتا نہیں رہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے ایمنسٹی اسکیم سے 120 ارب روپے جمع کیے تھے، اس سے انہیں 80 سے 90 ارب روپے ٹیکس ملے گا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ایمنسٹی سے ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…