بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

بیوروکریٹس میں تناؤ، آٹو سیکٹر تذبذب کا شکار

datetime 9  جولائی  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں آٹو موبائل سیکٹر حکومت کی جانب سے ٹیکس نادہندہ گان کو گاڑی کی فروخت پرعائد پابندی کے بعد تذبذب کا شکار نظر آرہا ہے۔  رپورٹ کے مطابق فائنانس ایکٹ 2018 کے تحت کسی بھی ٹیکس نادہندہ کو گاڑی کی فروخت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم لاہور میں ریجن سی کے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے پنجاب میں اپنے افسران کو ایک خط جاری کیا گیا۔

جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک ہزار سی سی سے کم صلاحیت کے انجن پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ سوزوکی کی جیپ جمنی 20 بعد پہلی بار ری ڈیزائن مذکورہ خط میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام سے بات چیت کا حوالہ دیا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی ایف بی آر سے تحریری وضاحت کا انتظار ہے۔ 4 جون کو جاری ہونے والے اس خط میں بتایا گیا کہ موٹر سائیکل، تجارتی گاڑیوں اور ایک ہزار سی سی سے کم صلاحیت والے انجن والی گاڑیوں پر ٹیکس دہندہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس خط کے جاری ہونے کے ایک روز بعد ایف بی آر کے شعبہ ان لینڈ ریونیو کے کمشنر جہانگیر احمد نے بھی ایک خط جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو ایف بی آر کے متعلقہ حکام تک پہنچایا جاچکا ہے اور بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ایک جعلی خط افسران تک پہنچایا کیونکہ اس حوالے سے نہ کوئی اجلاس ہوا تھا اور نہ ہی کوئی فیصلہ لیا گیا تھا۔ مہران کا متبادل پاکستان کی نئی سستی گاڑی؟ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ڈائریکٹر نے قانون کی سراسر خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچر ایسوسی ایشن (پاما) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پنجاب کے محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن اور ایف بی آر کے خطوط ایسوسی ایشن کو ارسال کردیے ہیں ان کا کہنا تھا ایف بی آر کے افسر کے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈائریکٹر کا خط جعلی ہے۔ عبدالوحید خان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا ہے اس لیے آٹو موبائل سیکٹر میں گاڑیوں کی فروخت کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…