جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ٹیکس افسران کو دیئے گئے صوابدیدی اختیارات کو ختم کیا جائے،ایف بی آر میں ریفارمز لائی جائیں‘ ایف پی سی سی آئی

datetime 31  مارچ‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)ٹیکس افسران کو دیئے گئے صوابدیدی اختیارات کو ختم کیا جائے،معیشت کو دستاویزی کرنے کیلئے ایف بی آر میں ریفارمز لائی جائیں،کاروباری برادری کی مشکلات کو کم کرنے اور انڈسٹری کے فروغ کیلئے حکومت کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی سکیم دی جائے،ملک میں کاروبار کرنے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے( ای او ڈی بی)کی رینکنگ کو بہتربنایا جائے،ای او ڈی بی کی رینکنگ کوبہتر بنانے کے لئے ون ونڈو سہولت سنٹر کا آغاز کیا جائے گا۔ٹیکس ریفینڈکو یقینی بنایا جائے ۔

بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جائے،ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف نے ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس لاہور میں منعقدہ ’’ایف پی سی سی آئی پری بجٹ سیشن ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیشن میں پنجاب کے تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ا نہوں نے مزید کہاکہ پاکستان ای او ڈی بی کی رینکنگ میں 190 ممالک میں 147 ویں نمبر پر ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔جنوبی پنجاب میںپانی کی کمی کی وجہ سے زراعت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے ،اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پنجاب کی کاٹن بیلٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور کاٹن بیلٹ پر شوگر انڈسٹری لگ رہی ہے،گورنمنٹ کو زون سسٹم شروع کر نا چاہیے۔جس میں شوگر،کاٹن،مکئی اور چاول کی کاشت کے لئے زون مختص ہونے چاہئیں۔جس کی وجہ سے لوگ بینکاری کے نظام سے دور رہے ہیں اور کیش رکھنے پر مجبور ہیں۔ہمیں اپنے بینکاری کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔ان ممالک میں جہاں ہمارا بینکنگ سسٹم موجود نہیں وہاں بینکنگ نظام کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔وفاقی اور صوبائی سطح کے سیل ٹیکس میں مکمل ہم آہنگی اور مسابقت ہونا چاہئے۔

انفراسٹرکچر سیس کو Temporay Imports for re-exportsپر استثنیٰ قرار دیا جائے۔چاروں صوبوں میں سروسز سیکٹرپر مختلف ٹیکس لاگو ہیں جس سے صوبائی سطح پر بھی مارکیٹ کمپیٹشن پیدا ہو رہاہے۔کاروبار اور انڈسٹری کی ترقی اوربجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو Feasible پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جائیں۔تمام حکومتی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیمبرز ،ایسوسی ایشنز اور ایف پی سی سی آئی کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ضلعی سطح پرہر چیمبر میں ٹیکس سے متعلقہ معلوماتی ہیلپ ڈیسک قائم کئے جائیں۔صنعتوں میں سرمایہ کا ری اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے انڈسٹریل اسٹیٹس کو فروغ دیا جائے۔ہماری انڈسٹری کو سکلڈاور سیمی سکلڈ مین پاورکی کمی کا شدت سے سامناہے۔سی پیک منصوبوں میں مقامی بزنس کمیونٹی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں جوچائنزکو دی جا رہی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…