جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

زری پالیسی کمیٹی کا پالیسی ریٹ کو بڑھا کر 6 فیصد کرنے کا فیصلہ

datetime 27  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 25 بی پی ایس بڑھا کر 6 فیصد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ نے مرکزی بینک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی نمو گذشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوسط عمومی مہنگائی اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کی حدود کے اندر ہے۔

لیکن قوزی مہنگائی بڑھتی رہی ہے۔ انہوں نے توقع اظہار کیا کہ مالی سال 18ء کی پہلی ششماہی کا مالیاتی خسارہ پچھلے سال کی شرح 2.5 فیصد کے قریب رہے گا۔ برآمدی نمو میں نمایاں بہتری رہی ہے اور ترسیلات تھوڑی زیادہ ہیں تاہم زیادہ تر درآمدات کی بلند سطح کی وجہ سے جاری کھاتے کا خسارہ دباؤ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ توقع ہے کہ دسمبر 2017ء میں شرح مبادلہ کی ایڈجسٹمنٹ سے بیرونی محاذ پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی شعبے میں پیش رفت سے ظاہر ہے کہ شعبہ زراعت کی کارکردگی مسلسل دوسرے سال بہتر رہے گی۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر اشیاء سازی کے شعبے میں جولائی تا نومبر مالی سال 18 کے دوران 7.2 فیصد کی بھرپور وسیع البنیاد نمو دیکھی گئی جبکہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں 3.2 فیصد نمو ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر اور سی پیک سے متعلق سرمایہ کاری سے تعمیرات اور منسلکہ صنعتوں کو فائدہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ ان کی بلند نمو کی رفتار قائم رہے گی۔ طارق باجوہ نے کہا کہ مالی سال 18ء کی پہلی ششماہی میں اوسط عمومی مہنگائی 3.8 فیصد ہے۔ اس کے ہمراہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے موخر اثر اور تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کی بنا پر آئندہ مہینوں میں مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 18ء کے لئے اوسط مہنگائی اب بھی 4.5 سے 5.5 فیصد کی حدود میں رہنے کا تخمینہ ہے ۔

تاہم امکان ہے کہ مالی سال کے آخر میں سال بسال مہنگائی آہستہ آہستہ 6 فیصد کے سالانہ ہدف کی طرف بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی محاذ پر مالی سال 18ء کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدی وصولیوں میں 10.8 فیصد نمو ہوئی جو گذشتہ سات برسوں کی بلند ترین سطح ہے جبکہ مالی سال 17ء کی پہلی ششماہی میں 1.4 فیصد کمی ہوئی تھی۔

طارق باجوہ نے کہا کہ آگے چل کر دسمبر 2017ء میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، برآمدی پیکیج، ریگولیٹری ڈیوٹیز میں ردوبدل کے موخر اثرات، سازگار بیرونی ماحول اور کارکنوں کی ترسیلات زرِ میں متوقع اضافے سے ملک کے جاری کھاتے کے خسارے میں بتدریج کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں لگ بھگ 5 فیصد کمی ہوئی ہے، تیل کی قیمتیں تقریبا 70 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہیں ۔

کئی مرکزی بینکوں نے اپنی پالیسی ریٹس میں اضافہ کرنا شروع کردیا ہے جو ان کی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی شرح سود کے تفرق پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور کئی اظہاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ پیداواری فرق خاصا کم ہوگیا ہے جس سے طلب کے دباو میں اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔ طارق باجوہ نے کہا کہ ان حالات کی بنیاد پر زری پالیسی کمیٹی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ معیشت کو اوورہیٹنگ سے بچانے اور مہنگائی کو ہدف کی شرح سے متجاوز نہ ہونے دینے کی خاطر یہ ایسا پالیسی فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ وسط تا طویل مدت میں نمو اور استحکام میں توازن قائم ہو جس کے لیے زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 25 بی پی ایس بڑھاکر 6 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…