جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

منی بجٹ آگیا،موبائل فونز، کھانے کی اشیاء،بچوں کے ڈائپرز سمیت سب کچھ80فیصد تک مہنگا،دھماکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے 731اشیا ء کی درآمد پر 10 سے 80 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ،حکومت کا موقف ہے کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے اور درآمدی اشیا ء کی حوصلہ شکنی کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور اس سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا،درآمدی ڈیوٹی کا فوری نفاذ کر دیا گیا ہے اورجن اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ان میں موبائل

فونز، کاریں، کھیلوں کا سامان، بچوں کے ڈائپرز، کھانے پینے کی اشیا اور میک اپ کا سامان شامل ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق موبائل فون کی درآمد پر 250 روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ ایل ای ڈی اور ایل سی ڈی کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی۔ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں کی درآمد پر 15 فیصد، اسپورٹس گاڑیوں کی درآمد پر 80 فیصد، 1801 سے لے کر 3 ہزار سی سی کی پرانی گاڑیوں کی درآمد پر 60 فیصد، نئی گاڑیوں کی درآمد پر 15 سے 80 فیصد، 2 ہزار سی سی سے زائد اسپورٹس گاڑیوں کی درآمد پر 60 فیصد جبکہ 2 ہزار سی سی سے زائد نئی اسپورٹس کاروں اور جیپوں اور نئی درآمد شدہ گاڑیوں پر بھی 60 سے 80 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔پولٹری کی درآمد پر 10 فیصد جبکہ مچھلی اور مچھلی سے متعلق دیگر اشیا کی درآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔دودھ، کریم، دہی، مکھن، ڈیری اسپریڈ، پنیر اور دیگر اشیا کی درآمد پر بھی 20 سے 25 فیصد جبکہ شہد، آلو، آم، کینو اور دیگر پھلوں کی درآمد پر بھی 20 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، لیموں اور تربوز کی درآمد پر 40 فیصد، ہر قسم کے پھلوں کی درآمد پر 10 سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی جبکہ خشک میوہ جات کی درآمد پر 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق گندم اور مکئی کی درآمد پر 60 فیصد، آٹے اور میدے کی درآمد پر 25 فیصد، بیجوں کی درآمد پر 30 فیصد جبکہ چینی اور گڑ کی درآمد پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

سویا ساس، ٹومیٹو کیچ اپ اور ٹومیٹو ساس پر 50 فیصد، منرل واٹر اور آئسکریم کی درآمد پر 20 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔کتے اور بلیوں کی خوراک کی درآمد پر 20 فیصد، سپاری کی درآمد پر 55 فیصد، سگریٹس، سگار پر 20 فیصد جبکہ شیمپو اور پرفیومز سمیت میک اپ کی تمام مصنوعات پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی۔نوٹیفکیشن کے مطابق چمڑے اور کپڑے کی مصنوعات کی درآمد پر 10 سے 40 فیصد اور جوتوں کی درآمد پر 15 سے 35 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی

۔ماربل، گرینائٹ، اسکریپ کی درآمد پر 5 سے 15 فیصد، اسٹیل اور لوہے کی مصنوعات پر 30 فیصد جبکہ سینیٹری کے سامان کی درآمد پر 45 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔جیولری کی درآمد پر 45 فیصد اور قیمتی پتھروں اور موتی کی درآمد پر 55 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔پنکھوں، فرج فریزر اور دیگر الیکٹریکل مصنوعات کی درآمد پر 20 سے 40 فیصد، فرنیچر کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔

زراعت میں استعمال ہونے والی ہارویسٹر اور آٹومیٹک مشینوں پر 20 سے 40 فیصد، جنریٹرز کی درآمد پر 10 فیصد، گھڑیوں کی درآمد پر 60 فیصد جبکہ کھیلوں کے سامان پر 30 سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔س کے علاوہ چمکنے والی نمبر پلیٹس اور نشانات پر بھی 50 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ٹیکس ماہرین کے مطابق ڈیوٹی کے نفاذ کا مقصد پرتعیش اشیا ء کی درآمدات کو کم کرنا ہے، اس طرح سے روپے کی قدر پر بڑھتا دبا ؤاور بجٹ خسارہ بھی کم ہو گا۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بازار میں بلا وجہ پھلوں سیمت اضافی سامان درآمد کیا جا رہا ہے

جس کی وجہ سے درآمدات میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں دبا دیکھا جا رہا تھا اس لیے حکومت کی جانب سے بلا وجہ درآمدات کو کم کرنے کے لئے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…