جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بھارتی معیشت کا دیوالیہ نکل گیا،بے روزگاری میں اضافہ

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)بھارتی معیشت سست روی کا شکار ہو گئی ہے جس کے باعث ہزاروں افراد ملازمتوں کے حصول میں ناکام ہو رہے ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق بھارت میں قتصادی نمو کی شرح اپریل سے جون کے دوران کم ہو کر 5.7 فیصد پر آ گئی جو گزشتہ تین برس کے دوران سب سے کم شرح نمو ہے۔ اقتصادی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارتی معیشت کو اپنی

اونچی اقتصادی نمو کی شرح پر واپس پہنچنے کیلئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہو گی۔ممبئی میں کرائسل نامی ریٹنگ ایجنسی کے چیف اکانومسٹ ڈی کے جوشی کا کہنا تھا کہ یہ بہت پریشانی کی بات ہے کیونکہ بھارتی معیشت میں ترقی کی شرح توقع سے کہیں زیادہ کم سطح پر آ گئی ہے۔ اقتصادی ترقی کی شرح گرنے سے بہت سے ناقدین وزیر اعظم نرندر مودی کی اقتصادی بدانتظامی کو مورد الزام ٹھہرانے لگے ہیں۔اقتصادی ماہرین خاص طور پر مودی حکومت کے دو اقدامات پر شدید تنقید کرنے لگے ہیں۔ ایک تو مودی سرکار کی طرف سے گزشتہ نومبر میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ ہے ۔ اْس وقت کہا گیا کہ اس کا مقصد ملک میں غیر قانونی رقوم کا خاتمہ کرنا تھا۔ لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں کاروبار سکڑ کر رہ گیا ہے اور مالی وسائل میں شدید قلت پیدا ہوئی ہے جس سے مالی وسائل پر انحصار کرنے والی معیشت کو دھچکا پہنچا ہے۔اس کے علاوہ اس سال جولائی میں بھارتی حکومت نے ٹیکسوں میں اصلاحات کا اعلان کیا جس میں جی ایس ٹی میں ردو بدل کیا گیا ۔ اس کا متعدد حلقوں کی جانب سے خیر مقدم بھی کیا گیا۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد میں سنگین غلطیاں

ہوئی ہیں اور اس کے نتیجے میں ٹیکسوں کے کئی ریٹ سامنے آنے سے کاروباری حلقوں میں افراتفری پھیلی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی اصلاحات کے اقدامات اوپر تلے آئے ہیں جن کے باعث اقتصادی نمو میں خطیر کمی واقع ہوئی ہے۔سرکاری حکام کا کہناتھا کہ معاشی سست روی محض ایک وقتی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں جلد بہتری کے آثار

دکھائی دینے لگیں گے۔ لیکن اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ آسان نہیں ہو گا اور اس میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…