جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کا تجارتی خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

datetime 15  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت کے آخری تین ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تاریخی حد تک بڑھ گیا تھا جس کو کم کرنے کے لئے نواز شریف حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے تھے ۔ ملک میں تجارتی خسارہ بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہوا ہے اس خسارہ اور مہنگائی بڑھنے کی ذمہ داری وزارت تجارت نے وزارت خزانہ پر ڈال کر جان چھڑائی تھی ۔ وزارت شماریات کے مطابق اپریل سے جولائی 2017 تک برآمدات میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا ہے

جبکہ برآمدات میں تین ماہ کے دوران 6.64 فیصد کمی آئی ہے جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک تجارتی خسارہ ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ان تین ماہ کے دوران پاکستان میں 761 ملین ڈالر کی مشینری درآمد کی گئی تھی جو گزشتہ سال 566 ملین ڈالر تھی اس مشینری میں 50 فیصد مشینری توانائی کے منصوبوں میں استعمال ہونے والے پرزے شامل تھے ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت کی ترقی سے ملک کی ترقی ہو گی لیکن ان تین ماہ کے دوران شعبہ زراعت کے لئے درآمد کی گئی مشینری میں 50 فیصد کمی دیکھنے کو ملی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں زراعت کی ترقی کم ہو رہی ہے ۔ تین ماہ میں ایک ارب 20 کروڑ روپے یعنی 113 ملین ڈالر کے موبائل فون درآمد کئے گئے ہیں ۔ پاکستان میں ان تین ماہ کے دوران ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پٹرو ل ‘ ڈیزل ‘ فرنس آئل وغیرہ درآمد کیا گیا ہے ۔ ملک میں ملیں بند ہونے کے نتیجہ میں پاکستان میں تین ماہ کے دوران 304 ملین ڈالر کی بسیں ‘ کاریں ‘ ٹرک درآمد کئے گئے ہیں ۔ ماہرین اقتصادیات نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال برقرار رہی تو ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا ۔ ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ درآمدات کی گئی مالیت کی مشینری کے اوسط سے درآمدی ڈیوٹی کم اکٹھی ہوئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…