پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کراچی سے پشاور160کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ،پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

datetime 12  جولائی  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان ریلویز اور چین کے نیشنل ریلویز ایڈمنسٹریشن کے درمیان کراچی سے پشاور تک ٹریک اپ گریڈیشن کی تفصیلات طے کر لی گئیں۔ گزشتہ روز ریلویز ہیڈ کوارٹرز لاہور میں چین کی نیشنل ریلویز ایڈمنسٹریشن کے وفد نے زینگ ہونگ بو کی قیادت میں سی ای او پاکستان ریلویز محمد جاوید انور کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کی ۔

چینی وفد میں کنسلٹنٹ اور ماہرین بھی شامل تھے جبکہ ریلوے وفد میں ٹیم لیڈر سی پیک اشفاق خٹک سمیت اعلیِ افسران شریک تھے ۔ اس موقع پر کراچی سے پشاور تک ٹریک اپ گریڈیشن کی تفصیلات طے کی گئیں جس کے مطابق 2655 کلومیٹر طویل ٹریک کو اپ گریڈ، 364 کلومیٹر ٹریک کو اوورہال اور 814 کلومیٹر ٹریک کو مکمل نیا بنایا جائے گا، 2700پل، 550موڑ اور 11ٹنلز اپ گریڈ ہوں گی، 160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والے ٹریک کو فینسنگ کے ذریعے محفوظ بنایا جائے گا۔ کمپیوٹر بیسڈ انٹرلاکنگ سسٹم، آٹو بلاک سگنلنگ، آٹو میٹک ٹرین پروٹیکشن، ایڈوانس روڈ وارننگ اور سنٹرلائزڈ ٹریفک کنٹرول کے ماڈرن سسٹم لگائے جائیں گے،کراچی سے حیدر آباد موجودہ ٹریک کی اپ گریڈیشن کے علاوہ ایک نیا ، متبادل ٹریک بھی بچھایا جائے گا۔لوکوموٹیوز، رولنگ سٹاک کے علاوہ والٹن اکیڈمی کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی۔چینی ماہرین اس سے پہلے راولپنڈی لاہور اور لاہور ساہیوالل ٹریک کی انسپکشن بھی کر چکے ہیں۔اس موقع پر سی ای او پاکستان ریلویز محمد جاوید انور نے کہا کہ اپ گریڈیشن کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک ڈبل کر دیا جائے گا، اپ گریڈیشن کے بعد مسافر ٹرینوں کی کم از کم رفتار 110،زیادہ سے زیادہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی، پاکستان ریلویز اس وقت 65کلومیٹر سے 110کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں چلا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز میں انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ ریلوے کی اپ گریڈیشن اور ماڈرنائزیشن کا عمل شروع ہو رہا ہے۔مال بردار ٹرینیں مین لائن پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جا سکیں گی، ایم ایل ون پر کراچی سے پشاور کے درمیان چلنے والی 32 ٹرینوں کی تعداد اور گنجائش 171 ٹرینوں تک بڑھ جائے گی۔اجلاس میں وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کی ریلوے کی بحالی اور جدت کے لئے کام کرنے پر چین کے ادارے این آر اے کے عہدے داروں نے خراج تحسین پیش کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…