جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

گوادر نے چین کا خواب حقیقت میں بدل دیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پلاننگ کمیشن کے حکام نے کہاہے کہ گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے چینی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کا خواب حقیقت میں تبدیل ہورہاہے ۔پلاننگ کمیشن کے حکام نے بتایاکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت ملک میں مواصلات کے شعبے میں خطیر سرمایہ کاری کی جارہی ہے، ملک میں 12 ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ اس شعبہ میں 33 ارب ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔

گذشتہ دو سال کے دوران سڑکوں کے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر و ترقی کیلئے 9.5 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے جو آئندہ تین سال تک مکمل کر لیا جائے گا ۔ اس منصوبے کے تحت تین سال کے دوران 1300 کلومیٹر طویل موٹرویز بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ این 85 شاہراہ گوادر بندرگاہ کو سوراب۔کوئٹہ کے قریب نیشنل ہائی وے نیٹ ورک این 25 اورملک کے دوسرے حصوں سے ملانے پر کام مکمل ہو گیاجس کا باضابطہ افتتاح وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کیاہے ، یہ منصوبہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے دوسرے ملکوں کے لئے گوادر تک رسائی کا مختصر ترین راستہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کے ملکوں کے روابط کے استحکام کیلئے کام کر رہا ہے جبکہ سی پیک کے تحت بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں اور موٹرویز کے موجودہ نیٹ ورک کی بہتری کیلئے کام کیا جا رہا ہے اور اس حوالہ سے پورے ملک میں مساوی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے، حال ہی میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے سیالکوٹ تا لاہور موٹروے کا افتتاح کیا جبکہ ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سڑکوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ایک تا 1.5 فیصد کا اضافہ ہو گا

جبکہ ملک میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت گوادر کی بندرگاہ کو ملک کے تمام شہروں کے ساتھ سڑک کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور اس وقت ملک میں موٹرویز کے 13 منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…