ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

حکومت نے قرضے اتارنے کاانوکھاطریقہ دریافت کرلیا،گھاپھراکربوجھ عوام پربڑھنے لگا

datetime 26  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)حکومت کا قرضوں کے حصول کے لیے شیڈول بینکوں پر انحصار کم ہو گیا ہے جبکہ بجٹ خسارے اور شیڈول بینکوں کو قرضوں کی واپسی کا تمام بوجھ اسٹیٹ بینک کو برداشت کرنا پڑرہا ہے، حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض لے کر شیڈول بینکوں کے قرضے لوٹارہی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بینکنگ سسٹم سے حکومت کو قرضوں کے اجرا میں اضافہ ہوا ہے،

جولائی سے دسمبر 2016کے دوران بینکاری نظام سے حکومت نے 280 ارب 45کروڑ 50لاکھ روپے کے قرضے حاصل کیے جس کے بعد بینکاری نظام سے حاصل کردہ حکومتی قرضوں کا مجموعی حجم 8390ارب روپے تک پہنچ گیا، اس عرصے کے دوران حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 913ارب 61کروڑ 30لاکھ روپے کے نئے قرضے حاصل کیے جس کے بعد اسٹیٹ بینک سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت 2367ارب 88کروڑ 60لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جون سے دسمبر 2016کے دوران حکومت کے شیڈول بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت 633ارب 15کروڑ 80لاکھ روپے کم ہوکر 6022ارب 15کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حکومت نے بینکاری نظام سے 90 ارب 68کروڑ 10لاکھ روپے کے نئے قرضے حاصل کیے تھے، گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اسٹیٹ بینک سے لیے گئے حکومتی قرضوں میں500ارب 40 کروڑ روپے کی کمی ہوئی تھی جبکہ شیڈول بینکوں سے لیے گئے قرضوں میں 591ارب 8کروڑ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔کومت کا قرضوں کے حصول کے لیے شیڈول بینکوں پر انحصار کم ہو گیا ہے جبکہ بجٹ خسارے اور شیڈول بینکوں کو قرضوں کی واپسی کا تمام بوجھ اسٹیٹ بینک کو برداشت کرنا پڑرہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…