جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

بدترین اقتصادی حالت،آئندہ چند ماہ میں کیا ہونیوالا ہے؟ معروف تاجر،سینیٹراور صنعت کار نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایک ارب ڈالرز کے سکوک بانڈز جاری کیے جانے کے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں سکوک بانڈز جاری نہیں کرنے چاہیئے تھے۔ وزارت خزانہ نے سکوک بانڈز جاری کرنے میں حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اگر ریکارڈ سطح پر ہیں تو سکوک بانڈز کیوں جاری کیے گئے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی معیشت سے متعلق اب بھی سوالات کیے جارہے ہیں ۔ پاکستان کو سکوک بانڈز جاری کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ میں حالات کی بہتری کا انتظار کرنا چاہیئے تھا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سکوک بانڈز کے بلند ریٹ کی ذمہ داری پاک بھارت کشیدگی پر ڈالنے پر حیرت ہوئی ہے۔ اوجی ڈی سی ایل کی نجکاری کا معاملہ دھرنے پر ڈالا گیا اب سکوک بانڈز کے بلند ریٹ کو پاک بھارت کشیدگی سے جوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سکوک بانڈز کو 5.5 فیصد کے ریٹ پر فروخت کرنادرست فیصلہ نہیں ہے۔ اثاثوں کی گارنٹی پر سکوک بانڈز کا ریٹ کم رکھا گیاجب کہ پاکستان کی گارنٹی پر جاری کیے گئے یورو بانڈز کا ریٹ زیادہ ہے ۔پاکستان کی گارنٹی پر جاری کیے گئے یورو بانڈز کا ریٹ کرنا چاہیئے تھا۔ یورو بانڈز پر زیادہ مارک اپ ریٹ سے پاکستان کی گارنٹی داو پر لگائی گئی ب جب کہ اثاثوں کی گارنٹی پر جاری کیے گئے سکوک کا ریٹ اب بھی کافی زیادہ ہے۔ علاقائی ممالک نے حال ہی میں اس سے کم ریٹ پر سکوک بانڈز جاری کیے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سکوک بانڈز کے اجرا سے پاکستان کے غیر ملکی قرضے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ غیر ملکی قرضوں کی اصل صورتحال نہیں بتا رہی۔ پاکستان کو آئندہ چند ماہ میں بھاری قرضہ واپس کرنا ہے۔ وزارت خزانہ جواب دے غیر ملکی قرضہ کون اتارے گا۔ وزارت خزانہ جان بوجھ کر آئندہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…