بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بدترین اقتصادی حالت،آئندہ چند ماہ میں کیا ہونیوالا ہے؟ معروف تاجر،سینیٹراور صنعت کار نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایک ارب ڈالرز کے سکوک بانڈز جاری کیے جانے کے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں سکوک بانڈز جاری نہیں کرنے چاہیئے تھے۔ وزارت خزانہ نے سکوک بانڈز جاری کرنے میں حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اگر ریکارڈ سطح پر ہیں تو سکوک بانڈز کیوں جاری کیے گئے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی معیشت سے متعلق اب بھی سوالات کیے جارہے ہیں ۔ پاکستان کو سکوک بانڈز جاری کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ میں حالات کی بہتری کا انتظار کرنا چاہیئے تھا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سکوک بانڈز کے بلند ریٹ کی ذمہ داری پاک بھارت کشیدگی پر ڈالنے پر حیرت ہوئی ہے۔ اوجی ڈی سی ایل کی نجکاری کا معاملہ دھرنے پر ڈالا گیا اب سکوک بانڈز کے بلند ریٹ کو پاک بھارت کشیدگی سے جوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سکوک بانڈز کو 5.5 فیصد کے ریٹ پر فروخت کرنادرست فیصلہ نہیں ہے۔ اثاثوں کی گارنٹی پر سکوک بانڈز کا ریٹ کم رکھا گیاجب کہ پاکستان کی گارنٹی پر جاری کیے گئے یورو بانڈز کا ریٹ زیادہ ہے ۔پاکستان کی گارنٹی پر جاری کیے گئے یورو بانڈز کا ریٹ کرنا چاہیئے تھا۔ یورو بانڈز پر زیادہ مارک اپ ریٹ سے پاکستان کی گارنٹی داو پر لگائی گئی ب جب کہ اثاثوں کی گارنٹی پر جاری کیے گئے سکوک کا ریٹ اب بھی کافی زیادہ ہے۔ علاقائی ممالک نے حال ہی میں اس سے کم ریٹ پر سکوک بانڈز جاری کیے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سکوک بانڈز کے اجرا سے پاکستان کے غیر ملکی قرضے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ غیر ملکی قرضوں کی اصل صورتحال نہیں بتا رہی۔ پاکستان کو آئندہ چند ماہ میں بھاری قرضہ واپس کرنا ہے۔ وزارت خزانہ جواب دے غیر ملکی قرضہ کون اتارے گا۔ وزارت خزانہ جان بوجھ کر آئندہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…