بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آرنے ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری برائے 2015جاری کردی

datetime 9  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایف بی آر نے ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری برائے 2015 جاری کر دی ۔ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس ڈائریکٹری کے اجرا کے موقع پروفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کہ یہ ایف بی آر کی تیسری ٹیکس ڈائریکٹری ہے۔انہوں نے کہا ڈائریکٹری کے اجرامیں تاخیرتاجروں کے ساتھ مذاکرات کی وجہ سے ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا کا چوتھا ملک ہے جو پارلیمنٹ اراکین کی ڈائریکٹری شائع کر رہا ہے۔ڈائریکٹری کے اجرا کے لیے کابینہ کی منظوری لی گئی۔اسحاق ڈارنے بتایاکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ سے بھی ٹیکس کاٹا جاتا ہے جوارکان پارلیمنٹ گوشوارے جمع کرائیں گے ان کے نام اپ ڈیٹ کردیئے جائیں گے۔ڈائریکٹری کے اعدادوشمارکے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے 2015 میں 25لاکھ روپے ٹیکس دیا۔شہباز شریف نے 77لاکھ روپے ٹیکس دیا۔عمران خان نے 76ہزار 244روپے ٹیکس ادا کیا۔مولانا فضل الرحمان نے 49ہزار90روپے ٹیکس ادا کیا ۔جہانگیر ترین کے 3کروڑ 76لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔ اس ڈائریکٹری کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا ٹیکس نوازشریف ، شہباز شریف ، حمزہ شہباز سے زیادہ ہے ۔ حمزہ شہباز نے 63لاکھ 30روپے ٹیکس جمع کرایا۔ اسحاق ڈار نے 39لاکھ13ہزار ٹیکس ادا کیا۔ خواجہ آصف نے 4لاکھ 66ہزار ٹیکس دیا۔ سعد رفیق نے 29لاکھ 57ہزار روپے ٹیکس دیا۔ عابد شیر علی نے 1لاکھ 28ہزار ،دانیال عزیز نے 4لاکھ 21ہزار ٹیکس ادا کیا۔ انوشہ رحمان 78ہزار، طلال چوہدری 47ہزار ، محمود خان اچکزئی نے 17ہزار 331روپے ٹیکس دیا۔ اسد عمر نے 42لاکھ60ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔ ایاز صادق نے 13لاکھ 73ہزار ، شاہد خاقان عباسی نے 21لاکھ 38ہزار ٹیکس دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…