اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

قوم کا بڑا نقصان ہو گیا, اربوں روپے ڈوب گئے

datetime 21  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں اربوں روپے کی کرپشن کا نیا سکینڈل سامنے آ گیا۔ حکومت نے 22وفاقی سیکرٹریوں کو 236پلاٹ الاٹ کر دیئے۔ اسلام آباد کے 30دینی سکالرز نے سرکاری گھروں پر قبضہ کر کے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات میں انکشافات سرکاری دستاویزات کے مطابق کے مطابق ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے 22وفاقی سیکرٹریوں میں3ارب 12کروڑ مالیت کے 236پلاٹ الاٹ کر دیئے تھے یہ الاٹمنٹ یوسف رضا گیلانی کے مرضی سے ہوئے تھے ان افسران کو سی ڈی اے کے علاوہ مختلف صوبائی حکومتوں سے بھی پلاٹ مل چکے تھے تاہم وزیراعظم نے Assistant packageکے تحت اسلام آباد کے پوش علاقوں میں یہ پلاٹ الاٹ کرنے کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے15کروڑ مالیت کے 19پلاٹ ان افسران کو الاٹ کئے جنہوں نے قواعد کے مطابق درخواست بھی جمع نہیں کرائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق فاؤنڈیشن نے پوش سیکٹرG-13میں کمرشل پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور نیلامی میں بھاری بے قاعدگیاں کی تھیں اور کم بولی دینے والوں کو چھپ کر پلاٹ الاٹ کر کے قومی خزانہ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ جی 13/14میں بھی گیارہ پلاٹ غیر قانونی طور پر الاٹ کئے گئے تھے جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نےG-13میں سڑکوں کی تعمیر اور دیگر کاموں کے لئے قواعد کے برعکس اور زیادہ ریٹ پر ٹھیکے دے کر قومی خزانہ کو ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے جس پر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے کراچی کے این سینئر روڈ پر واقعہ اربوں روپے مالیت کا پلاٹ پر کراچی وزارت ہاؤسنگ قبضہ کر کے پٹرول پمپ نصب کر چکا ہے۔ ابتدا میں 5سال کے لئے پلاٹ مشرف دور میں حاصل کیا بعد میں قبضہ کر لیا گیا۔ اس طرح وفاقی کالونی لاہور میں وزارت کی ملکیت میں اربوں روپے مالیت کی کمرشل مارکیٹ پر بھی لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ جس کو واگزار کرانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حکومتو کے 30گھروں پر دینی مدارس کے لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ الاٹمنٹ کے نیشنل ہونے کے باوجود یہ لوگ گھر خالی نہیں کر رہے ہیں اور عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…