اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اربوں کی اراضی، کرنسی نوٹ چھاپنے والی سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے بارے میں ایسا فیصلہ کرلیاگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 8  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے کرنسی نوٹ چھاپنے والے قومی راز داری کے ادارے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی نجکاری کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے ،کرنسی نوٹ اور پرائز بانڈز بنانے کا اختیار اسٹیٹ بینک کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ امور کی سرانجام دہی کیلئے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)میں کمپنی رجسٹرد کرکے جس کی بعد ازاں قیمتی اراضی سمیت نجکاری کردی جائے گی۔دس سے پانچ ہزارروپے کے نوٹ چھاپنے والے ادارے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کوپہلے مرحلے میں دوالگ حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق کرنسی نوٹس ،بینک نوٹس اور پرائز بانڈزبنانے کا اختیارات اسٹیٹ بینک کو دیا جائے گاجبکہ نوٹس ،پرائز بانڈز کے علاوہ تمام سکیورٹی پرنٹنگ کے اختیارات کیلئے وزارت خزانہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ایک کمپنی رجسٹرڈ کریگی جس کے سو فیصد شیئرز حکومتی ملکیت رہیں گے۔ پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی کراچی ایئر پورٹ کے قریب اربوں روپے مالیت کی 176ایکڑ اراضی مجوزہ کمپنی کی ملکیت ہوجائے گی۔سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے کرنسی اور پرائز بانڈز بنانے کا اختیار اسٹیٹ بینک کو دینے سے متعلق کئی خفیہ اجلاس کئے گئے مگر حیران کن طور پر سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے کسی انتظامی آفیسر کو اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن سالانہ ساٹھ سے ستر کروڑ روپے کا منافع دیتا ہے ،کارپوریشن کرنسی نوٹ اور پرائز بانڈز سمیت پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،نشان حیدر ، بورڈ ،یونیورسٹیوں کی ڈگریاں، پاکستان آرمی ، نیوی کے کارڈز نان جوڈیشل پیپر اور سیونگ سرٹی فیکٹ بناتا ہے۔کام کے نوعیت کے حوالے سے انتہائی حساس اور قومی راز داری کے ادارے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی سیکورٹی کیلئے چار سو حاضر سروس آرمی تعینات ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…