اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

روس نے پاکستانیوں کے لئے دروازے کھول دیئے روسی سفیر نے بڑی پیشکش کردی

datetime 28  جون‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)روسی قونصل جنرل اولیگ این ایودیو نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات چاہتے ہیں ، آئندہ ماہ اس سلسلے میں اہم وفود کا تبادلہ بھی ہوگا۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر میں روس کے قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے مابین تجارتی تعلقات بڑھانے میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی)کے سی ای او ایس ایم منیر نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور انکی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ اور سی ای و ٹی ڈی اے پی ایس ایم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاجروں کو روس میں کاروباری مواقع سے بھرپور فوائد حاصل کرنے کے لیے وہاں جانا چاہیے، انھوں نے کہا کہ روس برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے، وہاں پاکستان مصنوعات کی طلب پیدا کی جاسکتی ہے جس سے دونوں ملکوں کے مابین تجارتی تعلقات کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ روس نے تاجر دوست پالیسیاں اپنائی ہیں اور وہاں کاروباری وفود کا خیرمقدم انتہائی شاندار انداز میں کیا جاتا ہے، ایس ایم منیر نے پاک روس تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے روسی قونصل جنرل اولیگ اویودیو کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاٹی کے صدر زاہد سعید نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو گذشتہ چند برسوں میں روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں خوش گوار تبدیلیاں آئی ہیں، تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں اور دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے لیے تجارتی اور صنعتی شعبے میں بے پناہ مواقع ہیں جن سے استفادہ کرکے تجارتی اور ملکی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج روس کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ میں ٹی ڈی اے پی کے سی ای او اور صنعت کار و تاجر برادری کے قابل فخر قائد ایس ایم منیر نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، اور روس کے ان شہروں میں تجارتی وفود لے کر گئے ہیں جہاں اس سے پہلے کوئی پاکستانی وفد نہیں گیا تھا اس کے علاوہ تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایس ایم منیر انتہائی متحرک کردار ادا کررہے ہیں جوایک قابل تحسین قومی خدمت ہے۔ تقریب میں کاٹی کے سابق صدور، ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان اور صنعت کاروں نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…