سنگاپور (اے پی پی) ایشیائی آئل مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کے نرخوں میں اضافے کا رجحان رہا اور خام تیل کے نرخ رواں سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جس کی وجہ امریکی رسد میں ایک مرتبہ پھر کمی اور نائیجیریا کی خام تیل کی پیداوار میں مزید کمی کا امکان ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران امریکا کے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 32 سینٹ کے اضافے سے 51.55 ڈالر فی بیرل میں طے ہوئے جوکہ جولائی 2015ء کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کے نرخوں کی بلند ترین سطح ہے جبکہ برینٹ نارتھ سی کروڈ کے آئندہ ماہ ترسیل کے معاہدے 22 سینٹ یا 0.42 فیصد کے اضافے سے 52.73 ڈالر فی بیرل میں طے پائے جوکہ اکتوبر 2015ء کے بعد اس کی قیمتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کی جاری رپورٹ کے مطابق 3 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران کمرشل سٹاکس میں توقعات سے زیادہ کمی ہوئی۔ سی ایم سی مارکیٹس کے تجزیہ کار مارگریٹ ینگ کے مطابق خام تیل کے سٹاک میں لگاتار تیسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خام تیل کی طلب اور رسد میں توازن قائم ہو رہا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
درگزر کیا کریں
-
ملتان میں شوہر اور بچوں کیساتھ سفرکرنیوالی خاتون کے ساتھ زیادتی کاڈراپ سین
-
بجلی صارفین ہوشیار! حکومت نے بلوں کے حوالے سے نئے احکامات جاری کر دیے
-
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
چینی کارساز کمپنی گیلی بذریعہ بیسٹ وے گروپ پاکستان میں داخل، 3 نئی انرجی گاڑیاں متعارف
-
ٹک ٹاکر سامیہ مبارک دوست سمیت گرفتار
-
سونے کی قیمت میں مزید کمی
-
یو اے ای میں پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
ایزی پیسہ کا صارفین کے اکاؤنٹس کی سکیورٹی سے متعلق اہم خبر
-
رات کے کھانے میں کون سی دالیں کھانے سے گیس اور بدہضمی ہوسکتی ہے؟
-
الیکٹرک بائیک خریدنے پر 80 ہزار روپے سبسڈی کی تجویز سامنے آگئی
-
خطرے کی گھنٹی بج گئی، 6 ادویات سے متعلق اہم انکشاف
-
کرسٹیانو رونالڈو نے دولت کے میدان میں نئی تاریخ رقم کر دی
-
ایپل کا نیا فولڈ ایبل فون مارکیٹ میں آگیا، قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے



















































