لاہور(نیوز ڈیسک)ٹیوٹا کمپنی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 20 ہزار سے 65 ہزار روپے تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق یکم مئی 2016ء سے ہوگا۔تفصیلات کے مطابق کمپنی یکم مئی 2016ء کے بعد متعارف کرانے والے ہر ماڈل کی گاڑیوں میں کچھ جدید فیچرز شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق ان خریداروں پر بھی ہو گا جنہیں گاڑی کی بکنگ کراتے ہوئے یکم مئی کے بعد کا وقت دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹیوٹا کرولا پاکستان میں مشہور ترین برانڈ ہے جس کی فروخت میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ناقابل یقین اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈس موٹر کمپنی نے کسٹم ڈیوٹی میں اضافے اور امپورٹڈ پارٹس پر ٹیکس کے باعث گزشتہ سال دسمبر میں بھی گاڑیوں کی قیمت میں 5 ہزار روپے سے 30 ہزار روپے تک اضافہ کیا گیا تھا۔پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کے مطابق ٹیوٹا نے پاکستان میں جولائی 2015ء4 سے فروری 2016ء4 تک کل 38,069 گاڑیاں فروخت کی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران گاڑیوں کی فروخت کی تعداد 31,042 رہی تھی۔
ٹیوٹا کمپنی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 65 ہزار روپے تک اضافے کا اعلان کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کے لیے واحد آپشن
-
مشہور بھارتی اداکارہ ٹریفک کے المناک حادثے میں چل بسیں
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
ایران نے اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یو پیپلز آف پاکستان لکھ دیا
-
عوام کو سستے پیٹرول کی فراہمی ! حکومت کا 24 ہزار فونز خریدنے کا اعلان
-
محلے دار نے بھتیجے کے گھر آئی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
حمزہ علی عباسی کی بہن نے لاکھوں ڈالرز اور درہم کیسے بیرون ملک منتقل کئے؟ الزامات کی تفصیلات
-
ریشم نے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ کی ہیں’ دیدار کا الزام
-
دوستی نہ کرنے پر فٹ بالر نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا
-
خلیجی ممالک نے عراق سے اہم مطالبہ کر دیا
-
رجب بٹ کا ذوالقرنین سکندر اور کنول آفتاب کو دوٹوک جواب، تنازع شدت اختیار کر گیا
-
آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کیلئے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کررہے ہیں: فنانشل ٹائ...



















































